بھارت مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرگیا،خصوصی حیثیت ختم

209

نئی دہلی/سرینگر(صباح نیوز) بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی’’ نیم خود مختار‘‘ حیثیت ختم کردی۔ ریاست کووفاقی علاقہ قرار دیتے ہوئے اسے 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کردیا۔مودی حکومت نے اس حوالے سے صدارتی فرمان بھی جاری کرادیا جس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35اے کومنسوخ کردیا گیا ہے جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گی جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔لداخ کوجموں و کشمیرسے الگ کرتے ہوئے اسے وفاق کے زیر انتظام علاقہ بنادیا گیا جس کی قانون ساز اسمبلی نہیں ہوگی۔کشمیریوں کواب اپنا پرچم لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایوان بالا راجیہ سبھا میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370اور 35اے ختم کرنے کا بل رسمی طور پر پیش کیا جس پر صدر مملکت پہلے ہی دستخط کرچکے ہیں۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔ امت شاہ نے شور شرابے کے باوجود بل ایوان میں پیش کیا۔انہوںنے یہ بھی کیا کہ جموں و کشمیر وفاق کے زیر انتظام ایک الگ خطہ بنے گا اور ریاست کی تشکیل نو کی جائے گی۔بل کے مطابق لداخ کے پاس چنڈی گڑھ کی مانند مقننہ ہوگی جبکہ جموں و کشمیر کے پاس دہلی اور پڈوچیری کی مانند مقننہ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ لداخ کے عوام عرصہ دراز سے اسے وفاق کے زیر انتظام خطہ قرار دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ امت شاہ کے بقول سرحد پار سے دراندازی اور سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر جموں و کشمیر کو یونین ٹیریٹری بنایا جائے گا۔ایوان میں مذکورہ قراردادوں کے پیش کیے جانے سے قبل سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم نریندر مودی، امت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر خارجہ جے شنکر اور سلامتی سے متعلق دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔واضح رہے کہ بھارت کے آئین کی دفعہ 370کے تحت ریاست جموں کشمیر کو وفاق میں ایک خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے کی اجازت ہے اور متعدد معاملات میں بھارتی وفاقی آئین کا نفاذ جموں کشمیر میں منع ہے۔آرٹیکل کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے سوا بھارت کا کوئی بھی شہری یا ادارہ جائداد نہیں خرید سکتا جبکہ سرکاری نوکریوں، ریاستی اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالنے اور دوسری مراعات کا قانونی حق صرف کشمیری باشندوں کو حاصل تھا۔دفعہ 370اور 35اے کی منسوخی سے مقبوضہ کشمیر کی آبادیاتی، جغرافیائی اور مذہبی صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی۔ مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہوجائے گی اور وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسایا جائے گا،بھارت کے آئین کی دفعہ 370کے تحت ریاست جموں کشمیر کو یونین میں ایک خصوصی حیثیت حاصل تھی۔ دفعہ 35آئین کی ایک اور دفعہ 370کی ذیلی شق ہے۔ بھارت کی عدالت عظمیٰمیں دفعہ 35 اے کے خلاف کئی درخواستیں زیر سماعت ہیں۔بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)عرصہ دراز سے جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کی مخالف رہی ہے اور یہ اس کے انتخابی منشور کا بھی اہم حصہ رہا ہے۔آرٹیکل 370کے تحت بھارتی حکومت دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے علاوہ دیگر اہم معاملات پر قانون سازی کے لیے کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی مرہون منت ہے۔بل پیش کیے جانے کے دوران راجیہ سبھا میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے اپوزیشن ارکان کی سرزنش کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امیت شاہ نے جواہر لعل نہرو کی ایک تاریخی غلطی کی اصلاح کردی ہے۔راجیا سبھا میں قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد کا کہنا تھا کہ بی جے پی نے آج آئین کا قتل کردیا، ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں اور آئین کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دیں گے۔علاوہ ازیں کشمیر کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)کے اراکین اسمبلی نذیر احمد لاوے اور میر فیاض نے آرٹیکل370ختم کرنے کا بل پیش کرنے کے بعد پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج کیا، دونوں کو آئین کی کاپی پھاڑنے کی کوشش پر ایوان سے باہر نکال دیا گیا جبکہ میر فیاض نے احتجاجا اپنی قمیض پھاڑ لی۔بھارتی پارلیمنٹ میں ایک جانب حکومت کے اس اعلان کے حوالے سے بحث ہورہی تھی تو دوسری طرف بھارتی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا جارہا تھا کہبھارتی حکومت نے فضائی راستے سے مقبوضہ کشمیر میں مزید 8ہزار بھارتی فوجی اتار دیے ہیں ۔بھارتی حکومت گزشتہ ہفتے 35ہزار اضافی فوجی مقبوضہ وادی بھیج چکی ہے۔بھارتی حکومت نے مقبوضہ وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کردیا ہے جب کہ دفعہ 144نافذ کرتے ہوئے جلسوں اور ریلیوں پر مکمل پابندی بھی لگادی گئی ہے۔ اہم کشمیری رہنماؤں محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ اور سجاد لون کو نظر بند کر دیا گیا ہے۔ حکام نے سری نگر میں شہریوں کی نقل و حمل بھی محدود کر دی ہے۔ وادی کے مختلف علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔بھارتی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے حکم نامے کے تحت سری نگر میں نقل و حمل پر مکمل پابندی عاید کر دی گئی ہے۔تمام تعلیمی ادارے بھی غیر معینہ مدت کے لیے بند رہیں گے۔