حکومت کے پاس 10 لاکھ بھی نہیں تو ڈی چوک پر چندہ مانگے ، عدالت عظمیٰ

84

 

اسلام آباد(آئی این پی+اے پی پی)عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر حکومت کے پاس 10 لاکھ روپے بھی نہیں تو ڈی چوک میں چندہ مانگنا شروع کر دے۔ گندگی کے حوالے سے ٹریٹمنٹ پلانٹس نہ لگانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ سماعت ہر سیکرٹری داخلہ کو پیش ہونے کا حکم دیا۔ عدالت نے اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں تبدیلی کی تجاویز بھی طلب کرلی۔جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میںعدالت عظمیٰ کے 2 رکنی بینچ نے بنی گالہ ، کورنگ نالہ میں غیر قانونی تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کورنگ نالے پت لگائے جانے والے ٹریٹمنٹ پلانٹس کے لیے کتنا عرصہ درکار ہوگا؟۔ سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ 3 ٹریٹمنٹ پلانٹس کی منظوری ہوئی ہے،2برس میں لگ جائیں گے۔جسٹس
عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ مطلب 2 برس تک حکومت پنڈی والوں کو گندہ پانی پلائے گی،حکومت نے کورنگ نالے کے ارد گرد آبادی بننے ہی کیوں دی،حکومت نے تو غیر قانونی آبادی ختم کرنے کے معاملے پر بے بسی ظاہر کر دی ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قانون پر عمل ہو تو اس آبادی کو ہٹایا جانا چاہیے ،10،10 لاکھ روپے لگا کر وقتی طور ہر پانی کی صفائی کا کام کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس 10 لاکھ روپے بھی نہیں تو ڈی چوک میں چندہ مانگنا شروع کر دے۔عدالت نے حکم دیا کہ ماسٹر پلان میں تبدیلی سوچ سمجھ کر کی جائے اور حکومت فوری طور پر مختصر مدتی اقدامات کرے۔ کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔
جسٹس عظمت