فائر بریگیڈ نے500 امریکی سوٹ اور جوتے بغیر استعمال کے ضائع کردیے

130

کراچی(رپورٹ : محمد انور ) بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ فائر بریگیڈ نے امریکا کی جانب سے بطور عطیہ دیے جانے والے فائر فائٹنگ کے 500 سوٹ اور بوٹ بغیر استعمال کیے ضائع کردیے۔ اس بات کا انکشاف محکمے کے ایک فائر آفیسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کیا ہے۔اس افسر کا کہنا ہے کہ یہ
سوٹ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی کے آخری دور میں نائب ناظمہ نسرین جلیل کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے امریکا کی جانب سے دیے گئے تھے۔ ان سوٹس کے ساتھ بعض ضروری آلات اور ہیلمٹ بھی تھے۔سابق سٹی نائب ناظمہ نے بھی امریکا سے ملنے والے ان سوٹس وغیرہ کی تصدیق کی ہے ۔مذکورہ افسر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان سوٹوں کی دھلائی اور آلٹریشن پر تقریباً ایک لاکھ روپے بھی خرچ کیے گئے تھے ۔اس کے باوجود یہ فائرمینوں کو نہیں دیے گئے بلکہ انہیں سہراب گوٹھ فائراسٹیشن کے ایک کمرے میں بطور کچرا رکھ دیا گیا۔اس ضمن میں نمائندہ جسارت نے قائم مقام چیف فائر آفیسر مولانا تحسین سے موقف لینے کے لیے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ امریکا سے بطور عطیہ دی گئی تمام یونیفارم نہ صرف فنکس زدہ تھیں بلکہ وہ ہمارے فائرمینوں کے سائز کی بھی نہیں تھیں۔اس کے باوجود انہیں دھلاکر اور آلٹریشن کراکر استعمال کے قابل بنانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن انتہائی گرم کپڑا ہونے کی وجہ سے یہ یہاں کے لیے ناقابل استعمال تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ تمام وردیاں پرانی اور جراثیم زدہ بھی تھیں اس لیے انہیں استعمال نہیں کیا جاسکا اور آج بھی یہ سہراب گوٹھ فائر اسٹیشن میں پڑی ہیں تاہم امریکا سے آئے ہوئے جوتے اور ہیلمٹس فائر مینز کو فراہم کردیے گئے تھے۔اس لیے یہ اطلاع غلط ہے کہ جوتے اور ہیلمٹ بھی ضائع کردیے گئے۔خیال رہے کہ مولانا تحسین گزشتہ3برس سے او پی ایس کی بنیاد پر چیف فائرآفیسر کی اہم اسامی پر تعینات ہیں جس کی وجہ ان کی طرح کا کوئی دوسرا باصلاحیت افسر موجود نہیں ہے۔ چیف فائر آفیسر تحسین کے3 سالہ دور میں فائرمینوں کو یونیفارم تک نہیں دی گئی جس کی وجہ انہوں نے فنڈز کی عدم فراہمی بتائی ہے۔