عدالت عظمیٰ محکمہ صحت میں بھرتیاں ، ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل، سندھ حکومت کو مزید بھرتیوں سے روک دیا

318

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر)عدالت عظمیٰ نے میر پور خاص میں محکمہ صحت میں بڑے پیمانے پر جعلی بھرتیوں سے متعلق سندھ حکومت کو مزید بھرتیاں کرنے سے روکتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا بھرتیوں سے متعلق فیصلہ معطل کردیا۔عدالت نے آئندہ حکم تک مذکورہ اسامیوں پر کوئی بھرتی نہ کرنے کی بھی ہدایت کردی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر سندھ حکومت کوجامع جواب جمع کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت عظمیٰ کراچی رجسٹری میں جسٹس گلزار احمد کی
سربراہی میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ کے روبرو میر پور خاص محکمہ صحت میں بڑے پیمانے پر جعلی بھرتیوں سے متعلق سماعت ہوئی۔ 27 اسامیوں پر 305 لوگوں کو بھرتی کے انکشاف پر عدالت برہم ہوگئی۔ جسٹس گلزار نے ریماکس دیے کہ کیاسندھ میں کوئی حکومت نام کی چیز ہے یا پھر افسران اپنی اپنی حکومتیں لگا کر بیٹھے ہیں، دینے کو پیسے نہیں بھرتی پر بھرتیاں ہو جاتی ہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے ریماکس دیے کہ کوئی نوکری بغیر پیسے کے نہیں دیتے،بیچارے لوگ بکریاں،گائے فروخت کرکے نوکریاں خریدتے ہیں، 2 ، 2 لاکھ کی نوکری خریدنے کے بعد آپ کہتے ہیں اضافی بھرتیاں ہو گئیں، اس وقت سے ڈریں جب متاثرین گھیراؤ کریں اور حکام بالا کو پناہ تک نہ ملے۔ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل نے اعتراف کیا کہ 2015ء میں27 اسامیوں پر 305 بھرتیاں ہوئیں، بھرتیاں جعلی ہونے پر نوکریوں کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایاکہ آفر لینے دینے کے بعد نوکریاں کالعدم قرار دینا بڑی زیادتی ہے، تسلی بخش جواب نہ دینے پر عدالت محکمہ صحت کے افسران پر شدید برہم ہوگئی ۔ جسٹس گلزار احمد نے ریماکس دیے کی کیا تمہیں سرکاری خرچے پر چہرے دیکھانے کے لیے بلایا ہے ،جو کچھ ہو رہا ہے اس کی اجازت نہیں دے سکتے، پورے سندھ میں تعلیم اور صحت کے محکموں کے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے مزید ریماکس دیے کہ بھرتیوں پر بھرتیاں ہو رہی ہیں مگر دینے کو پیسے نہیں۔ افسران پیسہ بنانے کے لیے بھرتیاں کیے جا رہے ہیں، پھر عدالت کو کہا جاتا ہے بھرتیاں غیر قانونی ہیں اور پیسے نہیں۔ جسٹس مشیر عالم نے ریماکس دیے کہ افسران دونوں طرف سے لوٹ رہے ہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے ریماکس دیے کہ اضافی بھرتیاں کرنے والے کے خلاف کیا اقدام کیا۔ ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل نے موقف اپنایا کہ جعلی بھرتیاں کرنے والا ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ریٹارئرڈ ہوگیا، ذمے دارکے خلاف اینٹی کرپشن میں مقدمہ درج کرایا تھا۔جسٹس گلزار احمد نے ریماکس دیے کہ آپ نے ریٹارئرمنٹ کے بعد اسے پھولوں کا ہار پہنا کر رخصت کیا ہوگا۔