قربانی کے احکام و مسائل

506

مسئلہ نمبر1۔ جس شخص پر صدقہ فطر واجب ہے اس پر قربانی بھی واجب ہے۔
یعنی قربانی کے تین ایام (10/11/12/ذوالحج) کے دوران اپنی ضرورت سے زائد اتنا حلال مال یا اشیا جمع ہوجائیں کہ جن کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو تو اس پر قربانی لازم ہے، مثلاً رہائشی مکان کے علاوہ کوئی مکان ہو خواہ تجارت کے لیے ہو یا نہ ہو اسی طرح ضروری سواری کے طور پر استعمال ہونے والی گاڑی کے علاوہ گاڑی ہو تو ایسے شخص پر بھی قربانی لازم ہے۔
مسئلہ نمبر2: مسافر پر قربانی واجب نہیں۔
مسئلہ نمبر3: قربانی کا وقت دسویں تاریخ سے لے کر بارہویں تاریخ کی شام تک ہے، بارہویں تاریخ کا سورج غروب ہوجانے کے بعد درست نہیں۔ قربانی کا جانور دن کو ذبح کرنا افضل ہے اگرچہ رات کو بھی ذبح کرسکتے ہیں لیکن افضل بقر عید کا دن پھر گیارہویں اور پھر بارہویں تاریخ ہے۔
مسئلہ نمبر4: اگر مسافر مالدار ہو اور کسی جگہ پندرہ دن قیام کی نیت کرے، یا بارہویں تاریخ کو سورج غروب ہونے سے پہلے گھر پہنچ جائے، یا کسی نادار آدمی کے پاس بارہویں تاریخ کو غروب شمس سے پہلے اتنا مال آجائے کہ صاحب نصاب ہوجائے تو ان تمام صورتوں میں اس پر قربانی واجب ہوجاتی ہے۔
نیز اگر مسافر مالدار ہو دوران سفر قربانی کے لیے رقم بھی ہو اور وہ پندرہ دن سے کم عرصے کے لیے رہائش پذیر ہونے کے باوجود بآسانی قربانی کرسکتا ہو تو قربانی کرلینا بہتر ہے۔
مسئلہ نمبر5: قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا زیادہ اچھا ہے اگر خود ذبح نہ کرسکتا ہو تو کسی اور سے بھی ذبح کراسکتا ہے۔ بعض لوگ قصاب سے ذبح کراتے وقت ابتدائً خود بھی چھری پر ہاتھ رکھ لیا کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ قصاب اور قربانی والے دونوں مستقل طور پر تکبیر پڑھیں، اگر دونوں میں سے ایک نے نہ پڑھی تو قربانی صحیح نہ ہوگی۔ (شامی)
مسئلہ نمبر6: قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت زبان سے نیت پڑھنا ضروری نہیں دل میں بھی پڑھ سکتا ہے۔
مسئلہ نمبر7: قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اس کو قبلہ رخ لٹائے اور اس کے بعد دعا پڑھے۔
اِنِّی وَجَّھتْ وَجھِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمٰواتِ وَالاَرضَ حَنِیفًا وَّمَا اَنَا مِنَ المْشرِکِینَo اِنَّ صَلَا تِی وَنْسْکِی وَمَحیَایَ وَمَمَاتِی لِلّٰہِ رَبِّ العَالَمِینَo لَاشَرِیکَ لَہ وَبِذٰلِکَ اْمِرتْ وَاَنَا اَوَّلْ المْسلِمِینَ اَللّٰھْمَّ مِنکَ وَلَکَ اس کے بعد بِسمِ اللِہ اَللہْ اَکبَر ْکہہ کر ذبح کرے۔ (سنن ابی داؤد)
ذبح کرنے کے بعد یہ دعاء پڑھے:
اَللّٰھْمَّ تَقَبَّلہْ مِنِّی کَمَا تَقَبَّلتَ مِن حَبِیبِکَ مْحَمَّدٍ وَخَلِیلِکَ اِبرَاہِیمَ عَلَیہِمَا الصَّلَوٰۃْ وَالسَّلَامْ
مسئلہ نمبر8: قربانی صرف اپنی طرف سے کرنا واجب ہے۔ اولاد کی طرف سے نہیں۔ اولاد چاہے بالغ ہو یا نابالغ، مالدار ہو یا غیر مالدار۔
مسئلہ نمبر 9: درج ذیل جانوروں کی قربانی ہوسکتی ہے:
اونٹ، اونٹنی، بکرا، بکری، بھیڑ، دنبہ، گائے، بیل، بھینس، بھینسا۔
بکرا، بکری، بھیڑ اور دنبہ کے علاوہ باقی جانوروں میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں بشرطیکہ کسی شریک کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو اور سب قربانی کی نیت سے شریک ہوں یا عقیقہ کی نیت سے، صرف گوشت کی نیت سے شریک نہ ہوں۔
گائے بھینس اور اْونٹ وغیرہ میں سات سے کم افراد بھی شریک ہو سکتے ہیں اس طور پر کہ مثلاً چار آدمی ہوں تو تین افراد کے دو دو حصے اور ایک کا ایک حصہ ہوجائے نیز اگر پورے جانورکو چار حصوں میں تقسیم کرلیں یہ بھی درست ہے۔ یا یہ کہ دو آدمی موجود ہوں تو نصف نصف بھی تقسیم کرسکتے ہیں۔
اسی طرح اگر کئی افراد مل کر ایک حصہ ایصال ثواب کے طور پر کرنا چاہیں تو یہ بھی جائز ہے، البتہ ضروری ہے کہ سارے شرکا اپنی اپنی رقم جمع کرکے ایک شریک کو ہبہ کردیں اور وہ اپنی طرف سے قربانی کردے اس طرح قربانی کا حصہ ایک کی طرف سے ہوجائے گا اور ثواب سب کو ملے گا۔
مسئلہ نمبر10: اگر قربانی کا جانور اس نیت سے خریدا کہ بعد میں کوئی مل گیا تو شریک کرلوں گا اور بعد میں کسی اور کو قربانی یا عقیقہ کی نیت سے شریک کیا تو قربانی درست ہے اور اگر خریدتے وقت کسی اور کو شریک کرنے کی نیت نہ تھی بلکہ پورا جانور اپنی طرف سے قربانی کرنے کی نیت سے خریدا تھا تو اب اگر شریک کرنے والا غریب ہے تو کسی اور کو شریک نہیں کرسکتا اور اگر مالدار ہے تو شریک کرسکتا ہے البتہ بہتر نہیں۔
ایک جانور قربانی کرنے کے لیے خریدا، اگر اس کے بدلے دوسرا حیوان دینا چاہے تو جائز ہے مگر یہ لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ دوسرا حیوان کم ازکم اسی قیمت کا ہو اگر اس سے کم قیمت کا ہو تو زائد رقم اپنے پاس رکھنا جائز نہیں بلکہ صدقہ کرنا ضروری ہے، ہاں اگر زبانی طور پر جانور کو متعین نہ کیا ہو بلکہ یہ ارادہ کیا ہوکہ اگر اچھی قیمت میں فروخت ہو رہا ہو تو فروخت کردیں گے اس صورت میں اصل قیمت سے زائد رقم اپنے پاس رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
مسئلہ نمبر11: اگر کسی آدمی نے قربانی کے لیے جانور خریدا اور خریدنے کے بعد وہ جانور قربانی کرنے سے پہلے گم ہوجائے تو صاحب حیثیت آدمی پر قربانی کے لیے دوسرا جانور خریدنا ضروری ہے کیونکہ اس پر قربانی شرعا واجب تھی اور واجب ادا نہیں ہوا جبکہ فقیر آدمی پر دوسرا جانور خریدنا اور قربانی کرنا لازم نہیں تھا اس کے باوجود غریب نے دوسرا جانور بھی خرید لیا اب اگر مالدا ر اور غریب ہر دو کا پہلا گم شدہ جانور مل جائے تو امیر پر صرف شرعی واجب (قربانی) کا ادا کرنا لازم ہے۔ جس جانور کو ذبح کردے کافی ہے جب کہ غریب پر خود سے واجب کردہ دونوں جانوروں کی قربانی کرنا لازم ہے۔
اس کی تفصیل یوں ہے کہ امیر آدمی پر نصاب کی وجہ سے قربانی واجب تھی اس نے وہ ادا کردی اس کے حق میں جانور متعین نہیں ہوا تھا اسے اختیار ہے کہ جس جانور کو چاہے ذبح کردے جبکہ غریب آدمی پر قربانی لازم نہیں تھی غریب نے از خود جانور خرید کر اپنے پر قربانی کو لازم کرلیا اور جو جانور اس نے خریدا وہ بھی متعین ہوگیا اب پہلا جانورجو غریب کے حق میں قربانی کے نام سے متعین ہوچکا اگر وہ گم ہوجائے تو اس کے بدلے دوسری قربانی لازم نہ تھی اس کے باوجود غریب نے دوسرا جانور خرید کر اپنے پر قربانی لازم کرلی اس بناء پر فقیر آدمی پر دوسری قربانی بھی لازم ہوئی لہذا غریب آدمی دونوں جانوروں کی قربانی کرے گا بخلاف مالدار کے کہ اس پر صرف قربانی لازم ہے جانور متعین نہیں ہے۔ دونوں جانوروں میں سے کسی ایک کی قربانی کردے تو کافی ہے۔ جاری ہے…
(بشکریہ ماہنامہ بینات)