ناکام حکمرانی کا ایک سال

302

عمران خان کو اقتدارکے سنگھاسن پر بیٹھے ہوئے 365 دن مکمل ہوگئے ۔عمران خان کے اقتدار میں آنے سے قبل اور بعد کے پاکستان کو دیکھا جائے تو واضح فرق نظر آتا ہے ۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ فرق خوشگوار نہیں ہے ۔ عمرانی حکومت کے پہلے دن سے ملک میں معاشی افراتفری کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے ، اس کے اب تک رکنے کے کوئی آثار نہیں ہیں ۔ا سی طرح امن و امان کی صورتحال بھی مسلسل ابتری کا شکار ہے ۔پاکستان کی خارجہ پالیسی ہو یا داخلی صورتحال ، ہر جگہ پاکستان کے لیے ناموافق حالات ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان اب ایک مقتدر ریاست نہیں رہا ۔ اس کے فیصلے اب براہ راست آئی ایم ایف کے حاضر سروس ملازمین کے ہاتھ میں دے دیے گئے ہیں ۔ کسی بھی ملک کا معاشی استحکام ہی اس کی آزادی کی ضمانت ہوتا ہے ۔ سابقہ سویت یونین صرف اسی لیے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی کہ روس معاشی طور پر کمزور ہوگیا تھا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو قوتیں عمران خان کو اقتدار میں لے کر آئیں ، ان کے پاس پہلے سے پاکستان کو معاشی طور پر کمزور کرنے کا ایجنڈا موجود تھا جس پر پہلے ہی دن سے عمل شروع کردیا گیا ۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری ہی ایک ایسا عمل تھا جس نے خودکار طریقے سے پاکستان کی معیشت کو تباہی کے عمیق گڑھے میں دھکیل دیا ۔ اس کے بعد مزید تباہی کے لیے ملک میں ٹیکس کے نفاذ اور وصولی کو براہ راست آئی ایم ایف کے حاضر سروس ملازمین کی نگرانی میں دے دیا گیا ہے ۔ پاکستان کے مرکزی بینک کے سربراہ جو آئی ایم ایف کے حاضر سروس ملازم ہیں ، انہوں نے برملا اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ شرح سود میں اضافے سے ملک میں سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا ۔ اس کے باوجود نہ تو معاشی ٹیم میں کوئی تبدیلی کی گئی اور نہ ہی معاشی پالیسی میں ۔ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل جو دعوے کیے تھے ، ان سے اگر کوئی کسی خوش فہمی میں مبتلا تھا تووہ پہلے سو دن میں ہی دور ہوگئی تھی ۔ سوائے ان لوگوں کے جو حکومت میں شامل رہ کر دودھ اور شہد کی نہر سے استفادہ کررہے ہیں ، ہر صاحب الرائے کا کہنا ہے کہ عمران خان خود نہیں آیا بلکہ لایا گیا اور لانے والے اپنے مقاصد کی تکمیل میں مصروف ہیں ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے اسی تناظر میں کہا ہے کہ جولائی 2018 کے انتخابات ملک کے لیے دھچکا تھے ۔ عمران خان نے اپنے لیے سونامی کا نعرہ پسند کیا تھا کہ وہ انقلاب لائیں گے مگر بقول جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ سینیٹر سراج الحق کے پی ٹی آئی کی تبدیلی آندھی کی طرح آئی اور بگولے کی طرح گزر گئی۔ اب صرف بگولے سے تباہی کے آثار ہیں ۔ عمران خان کا سب سے زیادہ خوش کن نعرہ کرپشن کرنے والوں سے لوٹا گیا مال وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کروانا تھا ۔ اسی طرح انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان سے لوٹ کر بیرون ملک جمع رقم کو پاکستان واپس لایا جائے گا ۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس طرف نہ تو انہوں نے کوئی کوشش کی اور نہ ہی وہ اس طرح کے ارادے رکھتے ہیں ۔ اسی طرح کرپشن فری پاکستان کا نعرہ بھی اب کہیں پر نظر نہیں آتا ۔ کرپشن کا ناسور پہلے سے کہیں زیادہ پھیل چکا ہے اور کرپٹ عناصر پہلے سے زیادہ دلیری کے ساتھ کرپشن میں مصروف ہیں مگر کہیں پر کوئی روک تھام نہیں ۔ بھتہ خوری کا عفریت پورے پاکستان میں سر اٹھا چکا ہے ، اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں ۔ عمران خان بتائیں کہ ان کے کریڈٹ میں مثبت کیا ہے ۔ اقتدار کا ایک برس مکمل ہونے پر عمران خان جائزہ تو لیں کہ بیان بازی کے سوا انہوں نے کون سا کارنامہ سر انجام دیا ہے ۔ صرف یہ کہنے سے کام نہیں چلے گا کہ آئندہ چار برس میں سب صحیح ہوجائے گااور عوام گھبرائیں نہیں بس صبر کا مظاہرہ کریں ۔ اگر عمران خان درست سمت میں سفر کررہے ہوں چاہے وہ سست ہی کیوں نہ ہو تو کہا جاسکتا ہے کہ سب کچھ صحیح ہے ۔ تاہم عمران خان کے قول و فعل میں جو تضاد ہے اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آئندہ چار برس کے بعد ملک کے حالات کس سطح پر ہوں گے ۔ عمران خان اگر ملک کے لیے ذرا سی بھی محبت رکھتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ فوری طور پر اپنی پالیسیوں میں یو ٹرن لیں اور ملک کے معاشی استحکام کی طرف توجہ دیں یا پھر پاکستانی عوام کی جان چھوڑدیں ۔ اس طرف عمران خان کو سلیکٹ کرنے والے بھی توجہ دے لیں تو ملک کے پر احسان ہوگا ۔