پاکستان اور جماعت اسلامی (۱۹۵۱ء تا ۱۹۵۵ء) ( باب نہم)

190

مولانا مودودیؒ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے انہوں نے اپنی جسمانی ناتوانی اور دمے کے مرض کی شدت کے باوجود نہ صرف ہجرت کی بلکہ دارالعروبہ قائم کرکے دین کی خاطر اپنے خلوص‘ جذبے‘ لگن اور حوصلہ مندی کا بھرپور ثبوت دیا۔ دارالعروبہ کے کام کو پھیلانے اور ترقی دینے کی راہ میں اپنی بیماری اور خرابی صحت کو کبھی حائل نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے نہ صرف دن رات تصنیفی اور تالیفی مشقت کی‘ بلکہ اللہ کے دین کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ نومبر ۱۹۵۳ء میں جیل سے باہر آنے کے بعد ان پر دمے کے عارضے کا شدید دورہ پڑا‘ لیکن اس کے باوجود ۹؍ مارچ ۱۹۵۴ء میں مصر اور شام کے دورے کے لیے وہ کراچی پہنچے‘ لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ۱۶ ؍مارچ کی شام کو جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس منعقدہ پیر الٰہی بخش کالونی کراچی کے دوران ان کی طبیعت ایسی بگڑی کہ پھر سنبھل نہ سکی اور اسی روز‘ شام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مخلص اور مجاہد بندے کو مصر و شام بھیجنے کے بجائے اپنے پاس بلالیا‘ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
بانی جماعت اسلامی مولانا مودودیؒ نے اپنے اس بہترین رفیق کی رحلت پر کہا تھا کہ: ’’یہ ہمارا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے اور میں اپنا ایک بازو ٹوٹا ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘۔ (مولانا مسعود عالم ندویؒ کے مکمل تعارف اور کوائف تصنیف و تالیف کے کارناموں اور علمی دوروں کے بارے میں جاننے کے لیے چراغ راہ کا مسعود عالم ندوی نمبر اور خطوط ِ مودودی اول ملاحظہ کیجیے) آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے۔
مرکزی مجلس شوریٰ کے فیصلے کے مطابق دستور ساز اسمبلی کے اراکین سے ملاقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی‘ جس میں شامل وفود نے ۱۹ اور ۲۰؍ مارچ ۱۹۵۴ء کو ارکان پارلیمنٹ اور متعدد وزراء سے ملاقاتیں کیں۔ شوریٰ کے اجلاس میں مشرقی پاکستان کے انتخابات کے نتائج پر غور کیا گیا‘ جس میں حکمراں جماعت مسلم لیگ بدترین شکست سے دوچار ہوئی تھی اور متحدہ محاذ (جگتو فرنٹ) بھاری اکثریت سے کامیاب ہوا تھا۔ مسٹر فضل الحق کی سرکردگی میں ۱۲؍ اپریل ۱۹۵۴ء کو متحدہ محاذ کی کابینہ نے حلف اٹھالیا۔
غیر بنگالیوں کے خلاف خون ریز فسادات
مجلس شوریٰ کے اجلاس میں مشرقی پاکستان کے امیر حلقہ چودھری علی احمد خان نے ایک رپورٹ پیش کی‘ جس میں انہوں نے مشرقی پاکستان کی سیاسی اور سماجی صورت حال کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ چودھری علی احمد خاں رکن مرکزی مجلس شوریٰ کو فروری ۱۹۵۳ء میں امیر حلقہ مشرقی پاکستان کی حیثیت سے وہاں کے نظم کو درست کرنے اور دستوری مہم کو چلانے ‘ کارکنوں کی تیاری اور تربیت کے لیے ڈھاکا بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے سب سے ا ہم کام یہ انجام دیا کہ کارکردگی کے جائزے‘ کارکنوں کے احتساب اور تربیت کے لیے سازگار ماحول اور نظم قائم کیا اور ان کے زیر نگرانی صوبے کی عمرانی اور سیاسی صورت حال کے پیش نظر ایک ہمہ جہتی لائحہ عمل کے مطابق دعوتی اور تنظیمی کام شروع ہوا۔ امیر حلقہ کو مشورے دینے کے لیے ایک ابتدائی شوریٰ کا انتخاب ہوا۔ امیر حلقہ اور قیمّ حلقہ بہ لحاظ عہدہ اس کے رکن تھے۔ بقیہ چار اراکین میں پروفیسر محمد عزیز ‘ شیخ امین الدین ‘ شیر علی خان اور پروفیسر فروغ احمد بعد میں شیر علی خان اپنے وطن سورت واپس چلے گئے اور ان کی جگہ سید اسعد گیلانی کو جو جولائی ۱۹۵۴ء میں معاون کارکن کی حیثیت سے یہاں بھیجے گئے تھے‘ رکن شوریٰ منتخب کرلیا گیا۔
(جاری ہے)