قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ

166

یاد کر وہ وقت جبکہ ہم نے تیری ماں کو اشارہ کیا ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعہ سے ہی کیا جاتا ہے۔ کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے دریا اسے ساحل پر پھینک دے گا اور اسے میرا دشمن اور اس بچے کا دشمن اٹھا لے گا میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کر دی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے۔یاد کر جبکہ تیری بہن چل رہی تھی، پھر جا کر کہتی ہے، ’’میں تمہیں اْس کا پتہ دوں جو اِس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے؟‘‘ اس طرح ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اْس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو اور (یہ بھی یاد کر کہ) تو نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، ہم نے تجھے اِس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے گزارا اور تو مَدیَن کے لوگوں میں کئی سال ٹھیرا رہا پھر اب ٹھیک اپنے وقت پر تو آ گیا ہے اے موسیٰؑ۔ (سورۃ طہ:38تا40)

سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں جنت کے احاطے میں اس شخص کے لیے گھر کا ذمے دار ہوں جس نے حق پر ہونے کے باوجود لڑائی جھگڑے سے اجتناب کیا اور میں اس کے لیے جنت کے پیچوں پیچ گھر کا ضامن ہوں جس نے بطور مزاح بھی جھوٹ کا ارتکاب نہ کیا ہو اور میں جنت کی بلندی پر اس شخص کے لیے گھر کا ذمے دار ہوں جس نے اچھے اخلاق کو اختیار کیا۔ (سنن ابو داؤد)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص صبح وشام مسجد کی طرف جاتا آتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر بار آنے جانے کے بدلے جنت میں مہمان نوازی کا انتظام فرما دیتے ہیں۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)