شام کی اہم تنصیبات پر اسرائیل کے فضائی حملے

112

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل نے ایک بار پھر شامی تنصیبات پر حملے کردیے۔ اسدی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل نے بدھ کی صبح شام کے جنوبی علاقے میں الحارہ کی چوٹیوں پر بمباری کی۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق فجر کے بعد جنوبی شام پر میزائل داغے گئے اور خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کا نشانہ اسد حکومت یا اس کے اتحادیوں کے زیراستعمال فوجی اڈے تھے۔ شامی مبصر کے مطابق اسرائیلی میزائل درعا کے الحارہ پہاڑی سلسلے، نبع الصخر اور قنطیرہ کی تل الاحمر پہاڑی سلسلے پر گرے، جن میں جانی اور مالی نقصانات کی اطلاعات ہیں۔ اس سے قبل مغربی انٹیلی جنس ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ پہاڑی چوٹیوں پر ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں کے ٹھکانے تھے، جنہیں اسرائیلی میزائیل حملوں سے نشانہ بنایا گیا۔عالمی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو ایک نجی اسرائیلی انٹیلی جنس فرم نے بتایا کہ کے مطابق الحارہ پہاڑی پر قائم فوجی پر اس جگہ کو نشانہ بنایا گیا جہاں کئی جنگی طیارے کھڑے تھے اور جدید فوجی اسلحہ کا ایک ڈپو بھی تھا، جو حزب اللہ کے زیر استعمال تھا۔ حملے میں فوجی اڈے کے ایک حصے کو نقصان پہنچا ہے۔ دوسری جانب صوبہ ادلب میں بدھ کے روز روسی اور اسدی بم باری سے مزید 18شہری شہید ہوگئے۔ جنگی طیاروں نے اریحا، طبیش اور محمبل سمیت کئی شہروں، قصبات اور دیہات کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں درجنوں شہری زخمی بھی ہوئے، جب کہ کئی مکان اور عمارتیں تباہ ہوگئیں۔