پاکستان کے ائرپورٹس کو امریکن ائرلائن کیلیے جلد کلیئر کر دیا جائیگا،غلام سرور خان

135

اسلام آباد(اے پی پی)وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ امریکی ٹیم نے سیکورٹی کلیئرنس کے لیے پاکستان کا دورہ مکمل کر لیا ہے، جلد پاکستان کے ائرپورٹس کو امریکن ائرلائن کے لیے کلیئر کر دیا جائے گا۔ بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی آئی اے قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے، جہازوں کی کمی ہے، پارٹس فراہم کرنے والوں نے قومی ائرلائن کو ڈیفالٹ کر دیا ہے،پی آئی اے انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں ہے۔ پی آئی اے کے بزنس پلان کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جون میں 777 اور 320A جہاز شامل کیے ہیں اور ہربرس 5 جہاز فلیٹ میں شامل کیے جائیں گے۔ گلگت میں جہاز حادثے پر بات کرتے ہوے وفاقی وزیر نے کہا کہ چھوٹے رن وے کی وجہ سے گلگت حادثہ پیش آیا۔ حج آپریشن پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2 لاکھ حاجی پاکستان سے سعودی عرب گئے ہیں، ایک لاکھ 83 ہزار حاجی پی آئی سے گئے،روڈ ٹو مکہ آئندہ برس سے کراچی اور لاہور سے بھی شروع ہو گا۔سامان کی ریپنگ کے بارے میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ریپنگ دنیا بھر میں لازمی ہے، میں خود ریپنگ کے حق میں ہوں مگر سول ایوی ایشن نے اپنی طرف سے ریپنگ لازمی قرار دینے کا نوٹی فکیشن جاری کیا، اس افسر کے خلاف انکوائری کی ہدایت کی ہے۔ غلام سرور خان نے وزیراعظم کے دورہ امریکا پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ امریکا انتہائی کامیاب رہا، کافی عرصے بعد ایک اسٹیٹس مین کا دورہ تھا،سابق مرحوم صدر ایوب خان کے بعد ایسا دورہ عمران خان کو ملا، پچھلی حکومتوں میں وزیراعظم کے دورہ امریکا سے پہلے سوٹ،ٹائیوں اور جوتوں کے رنگ پر بحث ہوتی تھی لیکن عمران خان اپنے سادہ لباس ، چپل اور مخصوص اسٹائل کے ساتھ امریکا گئے، کشمیر پر جو بات ہوئی اس سے پہلے کبھی ایسا نہ ہوا، کشمیر کا مسئلہ حل کرانے اور افغانستان میں امن کے قیام میں عمران خان کا کردار بہت اہم ہے، دہشت گردی سے 70 ہزار شہادتیں ہوئی اور150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان پاکستان نے برداشت کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قومی معاملات پر ہمارا مؤقف ایک ہونا چاہیے ،بلاول کی طرح نواز لیگ کی طرف سے بھی کشمیر کے مسئلے پر ہونیوالی پیشرفت پر مثبت مؤقف آنا چاہیے تھا۔ احتساب کے عمل پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سابق وزیراعظم اور سابق صدر کے خلاف کرپشن پر کارروائی ہو رہی ہے، اس سے پہلے غریب افسروں کے خلاف کارروائی ہوتی تھی،بااثراور بڑے لوگوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا تھا، احتساب سب کے لیے پالیسی پر عمل پیرا ہیں،ہمارا مینڈیٹ احتساب ہے، احتساب کا عمل جاری رہے گا۔ سینیٹ میں قرارداد سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایوان بالا میں تحریک عدم اعتماد لانا سینیٹ کو کمزور کرنے کے مترادف ہے،اپوزیشن کی جانب سے 25 جولائی کو یوم سیاہ اس لیے منایا جا رہا ہے کیونکہ ان کے کرتوت سیاہ ہیں،ہم اس دن کو یوم تشکر کے طور پر منائیں گے۔