سرکاری اسپتالوں و ڈسپنسریو ں کا جائزہ لینے کیلیے ضلعی صحت کمیٹیوں کا قیام

96

کراچی(رپورٹ : محمد انور)حکومت سندھ کو ہائی کورٹ کے حکم کے بعد صوبے کے سرکاری اسپتالوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کا خیال آ ہی گیا۔ اس مقصد کے لیے چیف سیکرٹری ممتاز علی شاہ نے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں11 رکنی کمیٹیاں قائم کردی ہیں۔خیال رہے کہ 4 جولائی کو صحت کی سہولیات سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے عدالت عالیہ کے حیدرآباد سرکٹ بینچ نے حکومت کو صوبے کے تمام اسپتالوں کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لے کر اسپتالوں کی بہتری کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت عالیہ کے 4 جولائی کے اس حکم پر عمل کرنے کے لیے 16 جولائی کو چیف سیکرٹری نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں ہر ضلع کے لیے” ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹیز ” قائم کردی ہے۔ان کمیٹیوں کے ارکان میں متعلقہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ، ہیڈ آف ٹییچنگ سول اسپتال ( اگر کوئی ہے )، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تعلقہ / ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ، ڈسٹرکٹ پاپولیشن افسر ویلفئر آفیسر ،ڈسٹرکٹ مینجر پی پی ایچ،ڈسٹرکٹ مینجر آئی ایچ ایس،کنٹونمنٹ ایگزیکیٹو آفیسر،متعلقہ میونسپل کمشنر / ٹاؤن میونسپل افسر ، ایکسینن بلڈنگز ڈویڑن اور متعلقہ بار کا نمائندہ شامل ہونگے۔ کمیٹیوں کا کام اسپتالوں کا مکمل جائزہ لیکر وہاں موجود علاج کی سہولیات،عمارت اور وارڈز کی صورتحال،ادویات کی دستیابی،صفائی کے امور چیک کرنا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کمیٹیوں کا کام صرف اسپتالوں میں منظور شدہ بیڈز اور سہولیات کی موجودگی کا جائزہ لینا ہے۔کمیٹیوں کو کسی بھی کارووائی کا اختیار نہیں دیا گیا ہے اور نہ ہی جائزہ لے کر اس بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی حتمی تاریخ بتائی گئی ہے۔ شاہد یہی وجہ ہے کہ کمیٹیوں کے ارکان اب تک اس بات سے لاعلم ہیں کہ انہیں کسی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے مزکورہ کمیٹیوں نے اب تک کام بھی شروع نہیں کرسکیں ۔