کشمیر کے مسئلے کا حل کروڑوں افراد کو غربت سے نکال سکتا ہے،میاں زاہد

111

کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا دورہ امریکا بڑی سفارتی کامیابی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی جانب سے کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس اور اس دیرینہ تنازعہ پر ثالثی کی پیشکش بڑا سنگ میل ہے کیونکہ کشمیر کے مسئلے کے حل سے دنیا سکھ کا سانس لے گی اوریہ کروڑوں افراد کو غربت سے نکالنے کے علاوہ خطے کی تیز رفتار ترقی کا سبب بن سکتا ہے۔ امریکی پیشکش کے جواب میںبھارتی وزارت خارجہ نے اپنی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اوربھارت تمام تصفیہ طلب معاملات کو باہمی بات چیت سے حل کریں گے جبکہ دنیا گواہ ہے کہ باہمی مذاکرات اب تک اس 70سال پرانے مسئلہ کشمیر اور متعدد دیگر مسائل کو حل نہیں کرسکے اس لیے جب تک امریکا جیسے طاقتور ممالک مداخلت نہیں کریں گے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کشمیر پر امریکی پیشکش فوری طورپر قبول کر لی جبکہ بھارت نے اسے قبول نہیں کیا جس کی وجہ اس مسئلے کو لٹکانے کی خواہش ، امریکا اور بھارت کے مابین موجودہ تجارتی مسائل اور بی ایل اے جو بلوچستان کی علیحدگی کے لیے کام کر رہی ہے کو دہشت گرد قراردینا ہے۔امریکی صدر نے مذاکرات میں افغانستان میں خانہ جنگی کے حوالے سے ’ڈومور‘ کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ پہلی بار قیام امن کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو تسلیم اورپاکستان کی مدد کا اعتراف کیا گیاہے جس کی وجہ سے امریکا کی افغانستان میں 19سالہ جنگی نا کامی ہے۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے لیے امریکی امداد بحال ہو سکتی ہے اور دونوں ملکوں کی تجارت دس سے بارہ گنا بڑھ سکتی ہے جبکہ امریکی سرمایہ کاری بھی بڑھ سکتی ہے جو بڑی کامیابیاں اور مستقبل میں شراکت داری کی خوشخبری ہے۔صدر ٹرمپ نے وز یر اعظم عمران خان کی عوامی مقبولیت کا بھی حوالہ دیا جو دونوں لیڈروں میں ذاتی گر مجوشی اور مل کر کام کرنے کے ما حول کا عکاس ہے ۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ برسوں کی کشیدگی کے بعد دونوں ملکوں میں تعلقات بحال ہو رہے ہیں جس سے پاکستان کے علاوہ خطے کے دیگر ممالک اور سی پیک پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے جس کا ہضم کرنا بھارت کے لیے مشکل ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن سے خطے کی صورتحال بہتر ہو جائے گی جبکہ پاکستانی عوام ان مفید مذاکرات کے نتیجہ میں مزید کامیابیوں کے منتظر ہیںتاہم سابقہ ادوار میں امریکی ہرجائی پن کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے ۔