حیدر آباد،منظور نظر ملازمین کو ترقیاں دینے پر بلدیاتی افسران کو قانونی نوٹس

86

حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) بلدیہ آفیسر نے میونسپل کمشنر ودیگر افسران کوڈی پی سی کی آڑ میں عدالت عظمیٰ کے احکامات اور قوانین کی خلاف پر عدالتی چارہ جوئی کا عندیہ دے دیا، ڈی پی سی کی آڑ میں ملازمین وافسران کے آئوٹ آف ٹرن پروموشن سے باز رہا جائے۔ بلدیہ آفیسر انچارج اینٹی انکروچمنٹ سیل توحید احمد نے سال 2013ء میں عدالت عظمیٰ کے آئوٹ آف ٹرن پروموشن ڈیپوٹیشن، نان کیڈر منسوخ کیے گئے فیصلے کیخلاف ڈی پی سی کی آڑ میں منظور نظر ملازمین کو ترقیاں دینے اور ڈی پی سی کے قوائد و ضوابط پورے نہ کیے جانے پر میئر میونسپل کارپوریشن سہیل مشہدی، مونسپل کمشنر شاہد علی خان، ایگزیکٹو انجینئر محبوب ملک، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل فنڈز آڈٹ حیدر آباد محمد بخش پٹھان اور اکائونٹ آفیسر میونسپل کارپوریشن شمس الزماں کو قانونی نوٹس بھجوا دیے۔ توحید احمد نے بھجوائے گئے قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا کہ سیکرٹری بلدیات کی گزشتہ ماہ ڈی پی سی منعقد کرنے کا حکم دیا گیا تھا، جبکہ عدالت عظمیٰ نے سرکاری محکموں میں ترقیوں کا معاملہ طے کرتے ہوئے سال 2013ء میں تمام سرکاری محکموں میں آئوٹ آف ٹرن پرموشن، ڈیپوٹیشن، نان کیڈر ختم کرتے ہوئے ملازمین کو 1994ء کی پوزیشن ان کے پرائمری محکموں میں بھیجنے اور وہاں سے سنیارٹی کی بنیاد پر ترقیاں حاصل کرنے کا حکم دیا تھا مگر بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد نے عدالت عظمیٰ کے احکامات کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے ان احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا اور مسلسل منظور نظر ملازمین کو خلاف ضابطہ ترقیاں دے کر اہم عہدوں پر تعیناتیوں کا سلسلہ جاری ہے اور دوسرے محکموں سے ڈیپوٹیشن پر آئے ہوئے ملازمین کا عدالت عظمیٰ کے احکامات کے مطابق ان کے محکموں میں نہیں بھیجا گیا ہے اور اہم عہدوں پر تعینات کیاگیا ہے جبکہ ڈیپوٹیشن پرآئے ہوئے کئی ملازمین کے ایک سے زائد دو، تین اور چار عہدوں کا بھی چارج ہے۔ توحید احمد نے نوٹس میں موقف اختیار کیا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ منظور نظر ملازمین کو نوازنے کے لیے لسٹیں تیار کی گئیں ہیں اور تاحال ضابطے کے مطابق ڈی پی سی کی میٹنگ سمیت دیگر تقاضے پورے نہیں کیے گئے ہیں۔ انہوں نے نوٹس میں افسران کو متنبہ کیا کہ وہ ڈی پی سی کی آڑ میں کسی بھی غیرقانونی اقدام سے باز رہیں۔ ورنہ وہ اہم قومی ادارے میونسپل کاریورپشن میں لاقانونیت، میرٹ کی خلاف ورزی کے عمل پر اپنا قومی فریضہ ادا کرتے ہوئے آئین کے تحت دیے گئے، حقوق کے مطابق اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کریں گے، 2013ء میں عدالت عظمیٰ کے احکامات کے بعد توحید احمد رضا کارانہ طور پر 1994ء پوزیشن پر چلے گئے تھے اور کئی ماہ تک اسی پوزیشن پر کام کرتے رہے مگر بلدیہ کی بدعنوان مافیا انہیں 1994ء کی پوزیشن پر کام نہیں کرنے دیا کیونکہ ان کی 1994ء کی پوزیشن بحال ہونے پر سیکڑوں غیرقانونی ترقیاں، ڈیپوٹیشن اور نان کیڈر منسوخ کرنے پڑتے۔ ذرائع کا کہنا کہ مذکورہ غیرقانونی ڈی پی سی کیخلاف توحید احمد نے بعض قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد عدالت عالیہ میں آئینی درخواست دائر کرنے کے لیے تیاریاں مکمل کرلی ہیں، جبکہ دوسری کمپیوٹر آپریٹر سے خلاف ضابطہ ترقیاں حاصل کرکے ڈائریکٹر کمپیوٹر اور ایڈمن آفیسر کے عہدے تک پہنچنے والا ملازم یوسف دن رات ملازمین سے ترقیوں کے نام پر وصولیوں میں مصروف ہے، لسٹیں تیار کررہا ہے، معلوم ہوا کہ افسران کے دستخطوں سے جعلی دستاویزات تیار کرنے والا یوسف سابق اکائونٹ آفیسر عثمان خالد کو مختلف نوعیت کے فائدے پہنچا کر اہم عہدوں تک پہنچا ہے، اس پر سنگین بدعنوانی کے الزامات ہیں مگر افسران کے کمائو پوت ہونے کی وجہ سے اہم عہدوں پر تعینات ہے۔