ریونیو سٹی کا دفتر دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ، ملازمین میں خوشی کی لہر

116

حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) جام شورو ٹول پلازہ کے ساتھ کراچی سے حیدر آباد آنے والے ہائی وے پر سیکرٹری اینڈ یوٹیلائزیشن بورڈ آف ریونیو سیکرٹریٹ حیدرآباد نے ایک لیٹر 25-01-1993 کو مختارکار کوٹری کو جاری کیا تھا، جس میں ضلع دادو اور موجودہ ضلع جام شورو کو حکم دیا تھا کہ بورڈ آف ریونیو سیکرٹریٹ حیدر آباد کے ملازمین کی رہائشی اسکیم کے لیے زمین الاٹ کرکے فارم سہون میں داخل کیا جائے۔ اس وقت کے ڈی سی دادو سے اجازت لیتے ہوئے مختارکار کوٹری نے اسکیم ریونیو سٹی کی کل ایک ہزار پانچ ایکڑ اراضی مختص کرتے ہوئے فارم سہون میں 14 دسمبر 1995ء کو داخل کرانے کی تاریخ رکھی تھی۔ بورڈ آف ریونیو کے ملازمین کے لیے ایک الگ شہر ترتیب دیا گیا تھا، جس کے نقشے میں اسکول، مسجد، پارک، ڈسپنسری و دیگر رکھے گئے تھے، اس کے بعد اسکیم کے بینک میں چالان جمع کروائے گئے تھے، لیکن تاحال اس زمین پر کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا اور ریونیو سٹی اسکیم کا دفتر بھی گزشتہ چار سال سے بورڈ آف ریونیو سیکرٹریٹ حیدرآباد سے ختم کردیا تھا۔ دفتر بند ہوجانے سے ریونیو ملازمین کی الاٹمنٹ، چالان اور نقشے سمیت اسکیم کا اہم ریکارڈ ضائع ہونے کا خدشہ تھا، جس پر نوٹس لیتے ہوئے محکمہ ریونیو کے افسران، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سندھ شمس الدین سومرو نے کراچی کیمپ آفس میں فل بورڈ کے اجلاس میں ریونیو سٹی کے دفتر کو دوبارہ بحال کرنے سمیت ہزاروں ملازمین کو الاٹمنٹ جاری کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے بھی کیے جس سے ملازمین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دوسری جانب ایپکا کے صوبائی ترجمان شاہد سومرو نے سینئر ممبر کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریونیو سٹی، ریونیو ملازمین کا ایک الگ شہر کی حیثیت رکھتا ہے جو گزشتہ 24 سال سے ویران پڑا ہے، اس پر ایک مرتبہ بلڈرز مافیا نے قبضہ بھی کرلیا تھا، جس پر ملازمین نے بڑا احتجاج کیا تھا۔