اسامہ، آئی ایس آئی اور عمران

401

وزیر اعظم عمران خان نے امریکا میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا کو اسامہ کا پتا آئی ایس آئی نے دیا تھا ۔ شاید وہ ہ شکوہ کرنا چاہتے ہوں کہ ہم تو مائی باپ کی اتنی خدمت کرتے ہیں لیکن مائی باپ نے ہمارے علم میں لائے بغیر اسامہ کے خلاف آپریشن کر دیا ۔ عمران خان نے اسے اپنی زندگی کا توہین آمیز ترین لمحہ قرار دیا ہے ۔ وزیر اعظم کے اس بیان میں کئی باتیں بیک وقت پوشیدہ ہیں ۔ ایک یہ کہ یہ آئی ایس آئی پر براہ راست حملہ ہے ۔ ایک طرف تو سی آئی اے پاکستان اور آئی ایس آئی پر الزام لگاتی رہتی ہے کہ آئی ایس آئی دونوں طرف سے کھیل رہی ہے ۔ یعنی طالبان کے خلاف امریکا کے ساتھ مل کر آپریشن بھی کرتی ہے اور طالبان کے ساتھ بھی ہے ۔ عمران خان نے اس الزام کی تصدیق کر دی کہ آئی ایس آئی کو اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد کمپائونڈ میں موجود ہونے کا پتا تھا ۔ ویسے جو اطلاعات ہیں ان کے مطابق تو اسامہ بن لادن وہاں تھے ہی نہیں ۔ اور اگر آئی ایس آئی نے سی آئی اے کو اسامہ کی موجودگی کی اطلاع دی تھی تو ڈاکٹر شکیل آفریدی کو کس گناہ میں پکڑ رکھا ہے اسے تو ایوارڈز دیے جائیں کہ اس نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے کام کو آسان کرنے میںمدد دی تھی ۔ شاید حکومت شکیل آفریدی کو ایوارڈ دینے کے لیے ہی امریکا کے حوالے کرنا چاہتی ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان جب بات کرتے ہیں نئے مسائل پیدا کرتے ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ بات کرنے سے قبل بھی انہوں نے مشورہ نہیں کیا تھا ۔ اور اگر مشورہ کیا تھا تو پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ مشورہ دینے والوں کی صلاحیت بھی وزیر اعظم جتنی ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان نے شکیل آفریدی کے بدلے عافیہ صدیقی کی بات تو کی ہے لیکن ایک بڑا فرق ہے جو کام نواز شریف نے کیا تھا وہی وزیر اعظم نے بھی کیا ۔ کوئی ان کے انگریزی اور اردو خطاب کا موازنہ کرے تو پتا چلے گا کہ انگریزی میں جو کچھ کہا تھا جب ٹرمپ کے سامنے بیٹھے تھے یا جب وہ امریکی میڈیا سے خطاب کر رہے تھے تو ان کا لہجہ اور الفاظ مختلف تھے اور جب اردو میں پاکستانی صحافیوں سے بات کر رہے تھے تو لہجہ بھی سخت اور پر عزم تھا اور بھیک نہ مانگنے اور برابری کی بنیاد پر تعلقات کی بات کر رہے تھے ۔ سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم کو یہ گڑے مردے اکھاڑنے کی ضرورت کیوں پڑی ۔ امریکا کو کس نے کیا اطلاع دی اس وقت یہ باتیں کرنے کے بجائے جو کرنے کا کام تھا اس پر توجہ دی جاتی تو اچھا تھا ۔