ذرائع ابلاغ سے متعلق مقدمات نمٹانے کیلئے میڈا کو نوٹس بنائی جارہی ہیں،فردوس عاشق

188

کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشر یات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ سندھ میں بچے غربت اور ایڈزسے مررہے ہیں لیکن نہیں مرا تو بھٹو نہیں مرا،گھوٹکی میں قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں سرکاری مشینری استعمال کی گئی، تحریک انصاف کو ہرانے کے لیے کروڑوں روپے کی مہم چلائی گئی،ذرائع ابلاغ کے معاملات نمٹانے کے لیے ”میڈیا کورٹس” قائم کرنے جارہے ہیں،وزیر اعظم عمران خان میڈیا کو اپنا پارٹنر سمجھتے ہیں،جلد ایک ڈیجیٹلائزیشن پالیسی متعارف کرائی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو گورنر سندھ عمران اسماعیل اور پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ خوشی ہو رہی ہے کہ پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) پاکستان کا مثبت تاثر اجاگر کرنے کے لیے تیار ہے،بحیثیت میڈیا اونر ان میں حب الوطنی کا جذبہ موجود ہے،پاکستان کم فرسٹ کا سلوگن میڈیا ہاؤسز کے مالکان میں موجود ہے، میڈیا میں بیٹھے سپاہی پاکستان کی یکجہتی کے لیے ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں، ریاست کا بیانیہ عوام تک پہنچانے میں شراکت دار کا کردار ادا کر رہے ہیں،ورکرز کا وجود میڈیا میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، میڈیا ورکرز کو مسائل کا سامنا ہے تاہم ان کی جائز شکایات کا ازالہ بھی ہونا چاہیے، مسائل حل ہوں گے تو ان کے گھر کا چولہا جلے گا،اجر اور اجیر کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے لیے پالیسی بنارہے ہیں، جس سے میڈیا ورکرز کے مسائل حل اور مالکان کی مشکلات کم کریں گے،نئی ایڈورٹائزنگ پالیسی لائی جارہی ہے جس پر جلد عملدرآمد کیا جائے گا۔پاکستانی میڈیا کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے میڈیا کی کاوشیں قابل تحسین ہیں،پی بی اے کے پاس میڈیا پالیسی کی تجاویز آگئی ہیں، امید ہے مشاورت کے بعد میڈیا ورکرز کے لیے سہولت نکالنے میں کامیاب ہوں گے، پی بی اے نے پیمرا کے حوالے سے شکایات اور گلے شکوے مجھ سے کیے،ہم سمجھتے ہیں کسی سے ناانصافی نہیں ہونی چاہیے، قانون کا یکساں اطلاق ہوتا نظر آنا چاہیے ، سوشل میڈیا پیمرا کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، سماجی اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کے لیے اداروں سے رائے لے رہے ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن چینلز کی گنجائش کے مسئلے کا حل ہے، جلد ایک ڈیجیٹلائزیشن پالیسی متعارف کرانے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یا ادارے کے اقدام پر میڈیا عدالت میں چلا جاتا ہے، مقدمات میں وقت اور وسائل کا ضیاع ہوتا ہے، میڈیا کورٹس کے قیام کی تجویز ہے جو صرف میڈیا کے معاملات دیکھے گی، میڈیا کورٹس سے شکایات کا فوری ازالہ ہوسکے گا،چاہتے ہیں جائز ضروریات پر پی بی اے کے تحت میڈیا ورکرز سے رائے لیں، میڈیا ورکرز کو نکالنے کے مسئلے کے حل کے لیے طریقہ کار چاہتے ہیں،نیوز سمیت 58 نئے چینلز کو لائسنس دیے گئے، نئے لائسنس چینلز کی بڈنگ پر حکومت کو 5 ارب حاصل ہوئے، پی بی اے نے اقدام پر اعتراض کیا کہ کیبل کی اتنے چینل دکھانے کی گنجائش نہیں، اس مسئلے کا واحد حل ڈیجیٹلائزیشن پالیسی ہے،نئے چینلز سے میڈیا انڈسٹری میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے، حکومت میڈیا ورکرز کی تنخواہوں پر سمجھوتا نہیں کرے گی،پیمرا کے ضابطہ اخلاق پر بلا امتیاز عمل درآمد ضروری ہے، ملک میں یکساں قوانین کا اطلاق ہونا چاہیے اور کسی سے ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔علاوہ ازیں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے انصاف ہاؤس میں تحریک انصاف کی خواتین رہنماؤں اورکارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن یوم سوگ منائے یا یوم احتجاج منائے عوام 25 جولائی کو یوم احتساب منائے گی ،عوام بلاوجہ بھٹو کی کسی بات پرکان دھرنے کو تیار نہیں ہے،لوگ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ بھٹو کا یہ درد عوام کا نہیں ذاتی درد ہے ،بلاوجہ بھٹو سندھ کے بھوکے بچوں پر توجہ دیں لاڑکانہ کے ایڈز پر توجہ دیں ، ذاتی درد اور سیاسی درد رکھنے والوں کو عوام مسترد کرچکی ہے۔