حیدرآباد: کچھ دیر بارش سے طویل ترین لوڈشیڈنگ، تاجر برادری بر ہم

129

 

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)45منٹ کی بارش سے غائب ہونے والی بجلی تاحال بحال نہ ہوسکی، تاجر رہنمائوںکی شدیدتنقید ۔ تفصیلات کے مطابق حیسکو اور بلدیہ کی جانب سے رین ایمرجنسی اور مون سون کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کیے جارہے تھے جس کا بھانڈا45منٹ کی بارش کے دوران میںہی پھوٹ گیا، پیر کی شب بارش کی پہلی بوند سے شہر تاریکی میں ڈوب گیا حیسکو کے فیڈر زٹرپ کرگئے‘ ٹرانسفارمر جل گئے 4 سے 6 گھنٹے میں کچھ علاقوں میں بجلی بحال ہونا شروع ہوئی لطیف آباد یونٹ نمبر5میں 14گھنٹے بحال ہوئی پونے سات نمبرپر رات 12 بجے بحال ہونے والی بجلی پھر 2:45بجے چلی گئی‘ گاڑی کھاتہ سب ڈویژن جہاں پرنٹنگ پریس اور اخبارات کے دفاتر ہیں وہاں پوری رات بجلی نہیں تھی لیاقت کالونی‘ نورانی بستی‘ گول بلڈنگ رسالہ روڈ‘ بھائی خان ‘ لطیف آباد یونٹ نمبر12 میں 22 گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ
ہوسکی۔ دوسری جانب واسا نے بجلی کی عدم فراہمی کو جواز بنارکھا ہے جبکہ واسا کی جانب سے بھی رین ایمرجنسی نافذ کرکے بڑے بڑے دعوی کیے گئے تھے تاہم اسوقت بھی نصف شہر گندے پانی کے جوہڑ کا منظر پیش کررہا ہے جبکہ اس معمولی سی بارش کو24گھنٹے ہوچکے ہیں منگل کے روز بازاروں میں گندگی اور پانی جمع ہونے سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر رہیں ۔ حیدرآباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر پیر سید محمود آئی جعفری نے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے اہلکاروں کی ناقص کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیر کی شب ہونے والی بارش نے حیسکو کی کارکردگی کی قلعی کھول دی ہے اور حیسکوکے بڑے بڑے دعووں کے باوجود شہر کے 16سے زاید فیڈر زٹرپ کرگئے اورنصف سے زاید شہر کا حصہ اندھیرے میں ڈوب گیا ، 24گھنٹے گزرنے کے باوجود حیسکو اہلکار لائنوں اور فیڈرز پر نقص تلا ش کرنے میں ناکام رہے ، بارش کے فو ری بعد الیکٹر سپلائی منقطع ہونے کی وجہ سے عوام الناس نے رات بھر شدید گرمی اور حبس میں گزاری ۔ حیدرآباد چیمبر کے نائب صدر نے چیف ایگزیکٹو آفیسر حیدرآباد الیکٹر سپلائی کمپنی سے گزارش کی ہے کہ صارفین اور تاجر برادری کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے شہر بھر کے تمام فیڈرز کی بجلی فو ری طو رپر بحال کی جائے اور آئندہ ہونے والی بارشوں کے پیش نظر سخت انتظامات کیے جائیں تاکہ عوام کو مشکلات سے محفوظ رکھا جائے ۔علاوہ ازیں حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے سینئر نائب صدر سلیم الدین قریشی اور کنوینئرسب کمیٹی حیسکو محمد اکرم آرائیں نے کہا ہے کہ حیسکو کی رین ایمرجنسی سے نمٹنے کے دعووں کی پول کھل گئی حیسکو چیف اور ان کے ماتحت افسران اپنے فرائض کی ادائیگی میں مکمل طور پر ناکام ہوگئے ہیں۔ ایک گھنٹے کی بارش سے پورے حیدرآباد کی بجلی گھنٹوں بند کردی گئی، بعض علاقوں میں تو اَب تک بجلی نہیں آئی جس کی وجہ سے پمپنگ اسٹیشن بند پڑے ہیں اور گندا پانی گلیوں، محلوں اور سڑکوں پر کھڑا ہو گیا ہے، حیسکو چیف، سب کوآرڈینیٹ ایکس ای این ، ایس ڈی او اور ماتحت عملہ فون نہیں اٹھا رہا۔ انہوں نے وزیر اعظم اور وفاقی وزیر پاور و انرجی عمر ایوب خان سے مطالبہ کیا ہے کہ اِس ناکامی پر فوری طور پر حیسکو چیف کو ہٹایا جائے اور حیدرآباد کی حالت کو معمول پر لانے کے لیے اقدام کیے جائیں۔
بارش /بجلی بندش