اپوزیشن جماعتوں کا جے یو آئی ف کے جلسے میں شرکت سے انکار

63

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) اپوزیشن اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں نے 25 جولائی کو جمعیت علمائے اسلام ف کے پشاور میں ملین مارچ کے نام پر ہونے والے جلسے میں شرکت کرنے سے معذرت کرلی ہے۔ اس فیصلے کے بعد 25 جولائی کو جمعیت علمائے اسلام ف نے ایک ہی دن میں پشاور میں 2 جلسے منعقد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے زیر اہتمام پشاور میں ملین مارچ 14 جولائی
کو منعقد کیا جانا تھا لیکن اپوزیشن جماعتوں نے عام انتخابات کے انعقاد کے روز 25 جولائی کو مشترکہ طور پر یوم سیاہ منانے کااعلان کردیا جس کی وجہ سے یہ مارچ نہ ہو سکا تھا۔اس کے بعد جے یو آئی ف نے بھی اپنے ملین مارچ کی تاریخ تبدیل کرتے ہوئے 25 جولائی کو مشترکہ جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کردیا تھا لیکن اب اپوزیشن میں شامل جماعتوں نے ملین مارچ کے نام پر منعقد ہونے والے جلسے میں شرکت سے معذرت کرلی ہے۔اپوزیشن کے انکار کے بعد اب 25 جولائی کو ایک ہی دن پشاور میں 2 الگ الگ جلسے ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق 25 جولائی کو دن 11 بجے موٹر وے کے قریب اپوزیشن کا مشترکہ جلسہ یوم سیاہ کے سلسلے میں منعقد ہوگا جس سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کے خطاب کا امکان ہے البتہ ان کی عدم شرکت کی صورت میں احسن اقبال اور خواجہ آصف جلسے سے خطاب کریں گے۔اس کے علاوہ اے این پی کے سربراہ اسفندیارولی خان، پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ باب، قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپائو اور رضا ربانی کے علاوہ دیگر قائدین جلسے میں شریک ہوں گے جبکہ جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن بھی جلسے میں شریک ہوں گے۔ جے یوآئی ف ملین مارچ کے سلسلے میں اپنا الگ جلسہ سہ پہر 3 بجے دلہ زاک چوک رنگ روڈ پر منعقد کرے گی جس سے جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اورپارٹی کے دیگر رہنما خطاب کریں گے۔جے یو آئی ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک ہی دن میں 2 الگ الگ جلسے منعقد کرنا انتہائی مشکل اور سخت ترین فیصلہ ہے تاہم یہ فیصلہ اس وجہ سے لیا گیا ہے کہ اپوزیشن میں شامل جماعتوں کے قائدین نے ملین مارچ کے نام پر منعقد ہونے والے جلسے میں شریک ہونے سے انکار کردیا تھا اور ان کا مطالبہ تھا کہ یوم سیاہ کے سلسلے میں الگ جلسہ کیا جائے۔
ملین مارچ جلسہ