جنوبی کوریا: فضائی حدود کی خلاف ورزی‘ روسی طیاروں پر فائرنگ

95

سیئول (انٹرنیشنل ڈیسک) جنوبی کوریا کے لڑاکا طیاروں نے روسی طیاروں کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر انتباہی فائر کر دیے۔ خبررساں اداروں کے مطابق منگل کے روز جنوبی کوریا کے حکام نے بتایا کہ روسی طیارے نے دو مرتبہ اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ جنوبی کوریائی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی مداخلت کے جواب میں اس کے لڑاکا طیاروں نے انتہائی پھرتی سے 360 مشین گن سے فائر کیے۔ جنوبی کوریا کے مطابق 3 روسی اور 2 چینی فوجی طیارے منگل کی صبح جنوبی کوریا کے ائر ڈیفنس زون میں داخل ہوئے، جنہیں روکنے کے لیے جنوبی کوریا کے ایف 15 اور ایف 16 طیارے بھیجے گئے۔ جنوبی کوریا کے قومی سلامتی ادارے کے سربراہ نے اس معاملے پر روسی سیکورٹی کونسل میں سخت احتجاج کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ جب کہ جنوبی کورین صدر کے دفتر سے جاری بیان میں صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور اس طرح کی کارروائی دہرانے کی صورت میں سخت ردعمل کا عندیہ دیا گیا ہے۔ دوسری جانب روس نے جنوبی کوریا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور جنوبی کوریا کے انتباہی فائر کی تردید کی ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ اس کے بمبار طیاروں نے غیر متنازع سمندر پر پرواز کی۔ روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کے جنگی طیارے نے لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو مرتبہ روسی طیارے کو کراس کیا، جب کہ روسی طیارہ ڈوکڈو کے پانیوں پر ایک عالمی فضائی سرحد پر محو پرواز تھا۔ ادھر چین نے بھی جنوبی کوریا کے دعوی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جزیرہ ڈوکڈو کوریا ائر ڈیفنس کا حصہ نہیں، بلکہ تمام ممالک ہی اس علاقے میں آزادانہ اور محفوظ پروازیں کرتے ہیں۔ ساتھ ہی جاپان نے بھی روسی طیارے پر جنوبی کوریا کی جانب سے انتباہی فائر پر دونوں ممالک سے احتجاج کیا ہے۔ جاپان نے جنوبی کوریا سے کہا کہ اس کے لڑاکا طیاروں کا تاکے شیما جزائر کے اوپر انتباہی فائر کرناقابل قبول ہے۔ جاپان نے روس پر بھی واضح کیا کہ تاکیشیما جزائرجاپانی سرزمین کا حصہ ہیں اور ان کے گرد کی فضائی حدود کی خلاف ورزی ناقابلِ قبول ہے۔