عرب اتحاد کا بمبار کشتی اور ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

98

ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) یمن میں آئینی حکومت کے دفاع میں قائم عرب اتحادی فوج نے حوثی ملیشیا کی طرف سے بھیجی گئی ایک بمبار کشتی اور ڈرون طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ترجمان کرنل ترکی المالکی کے مطابق یمنی باغیوں نے ایک تجارتی جہاز اور سعودی عرب کے سرحدی شہر عسیر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، تاہم عسکری اتحاد حوثی باغیوں کا تعاقب جاری رکھے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بحیرئہ احمر میں بروقت کارروائی کرتے ہوئے بمبار کشتی کوتباہ کیا گیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں کرنل المالکی کا کہنا تھا کہ عرب اتحاد حوثی باغیوں کی جدید جنگی صلاحیت کو توڑنے کی کوشش کررہی ہے اور اس دوران حوثیوں کے میزائلوں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے کیے گئے حملوں کو کامیابی سے ناکام بنا کر دہشت گردی کے منصوبے ناکام بنائے گئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ حوثیوں کی ایک بمبار کشتی بحیرئہ احمر میں ایک تجارتی جہاز کی طرف بڑھ رہی تھی، جسے بروقت کارروائی کرکے تباہ کردیا گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ منگل کے روز حوثی ملیشیا نے سعودی عرب میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے منصوبے کے تحت سرحدی علاقے عسیر پر ڈرون طیارے سے حملے کی کوشش کی تاہم اسے بھی ناکام بنا دیا گیا۔ اس سے قبل ہفتے کے روز بھی یمنی صوبے عمران سے حوثی ملیشیا نے سعودی عرب پر ڈرون طیاروں سے حملوں کی مذموم کارروائی کی تھی تاہم عرب اتحاد نے ڈرون طیارہ مار گرایا تھا۔ کرنل ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا سوئیڈن میں طے پائے گئے جنگ بندی معاہدے کو تباہ کرنے اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہورہی ہے۔