عام انتخابات غیرشفاف تھے‘ اپوزیشن قرطاس ابیض تاحال نہ لاسکی

72

اسلام آباد ( خصوصی رپورٹ) دھاندلی کے الزامات سے آگے بڑھیے اور مستقبل کو دیکھیے‘ ذرائع بتاتے ہیں کہ اپوزیشن گزشتہ انتخابات سے متعلق کوئی قرطاص ابیض لانا چاہتی ہے لیکن صورت حال یہ ہے کہ گزشتہ دہائیوں میں پاکستان میں انتخابات متنازع رہے ہیں۔ اسی طرح، حزب اختلاف کی جماعتوں نے عام انتخابات 2018ء میں دھاندلی کا الزام لگایا تھا لیکن ان ا نتخابات کو یورپی یونین مبصر گروپ نے جمہوری عمل کے لیے ایک کامیابی اور اہم سنگ میل قرار دیا تھا۔ اس نے ووٹرز، انتخابی کمیشن، پولنگ کے عملے، سیاسی جماعتوں، امیدواروں، ان کے ایجنٹوں اور سیکورٹی فورسز کو ان کی اہمیت کے لیے انتخابات کے سلسلے میں انتظامات کی تعریف کی اور اسی مبصرگروپ نے پچھلے انتخابات کے بعد انتخابی قوانین میں واضح بہتری کی بھی نشان دہی اور اسے تسلیم کیا اسی طرح سابق بھارتی چیف الیکشن کمشنر، شہاب الدین یعقوب قریشی نے بھی گزشتہ عام انتخابات 2018 ء کے دوران مشترکہ مبصرین کے گروپ ایک رکن کے طور پر اسلام آباد / راولپنڈی میں تمام تر انتظامات دیکھے تھے۔ انہوں نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو مسترد کر دیا اور یہ بالکل قابل اعتماد، آزاد اور منصفانہ قرار دیا،دریں اثناء فافین اور پلڈڈیٹ نے بھی انتخابات کے عمل کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی رپورٹ دی تھی کہ انتخابات میں کہیں بھی منظم یا غیر منظم دھاندلی نہیں دیکھی گئی جیسا کہ کچھ سیاسی جماعتوں کی طرف سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، پلڈیٹ نے گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں پولنگ اسٹاف کے تربیتی اور غیر جانبدار سے متعلقہ ووٹنگ کے دن کے آپریشن کے بہتری کو بھی بیان کیاان تمام معتبر رپورٹس کو دیکھتے ہوئے، یہ وقت ہے کہ مخالفین کی جماعتیں الزامات کے کھیل سے آگے بڑھنے کے لیے مستقبل کے لئے ایک بہتر نظام کو اختیار کرنے کے عزم کے ساتھ لے جائیں۔