منگلا ڈیم کے تین ٹربائن 6 ماہ سے خراب ،سینیٹ قائمہ کمیٹی نے رپورٹ طلب کرلی

110

اسلام آباد(صباح نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی میں انکشاف ہوا ہے کہ منگلا ڈیم کے 3 ٹربائن خراب ہونے کی وجہ سے بجلی پیدانہیں ہورہی ہے، سستی بجلی کا1000میگاواٹ کے ایک ٹربائنل کا 220 کلوواٹ کا ٹرانسفارمر 6 ماہ سے خراب ہے اور 4ماہ سے لاہور ورکشاپ میںپڑاہے ، کمیٹی نے اس انکشاف پر برہمی کااظہارکرتے ہوئے اگلے اجلاس میں واپڈا، وزارت پانی اور ارسا کے حکام کوطلب کرلیا ۔قائدایوان سینیٹرشبلی فراز نے کہاکہ مہنگی بجلی بنانا اور پن چکی سے سستی بجلی نہ بناناظلم ہے ، سستی بجلی کے پاور پلانٹ خراب ہیں ، جن کی مرمت سردیوں میں ہونی چاہیے تھی،گردشی قرض کی ایک بڑی وجہ مہنگی بجلی اور ڈالر میں ادائیگیاں بھی ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کااجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فدا محمد کی سربراہی میں ہوا۔ قائد ایوان شبلی فراز، سینیٹر نعمان وزیر، سینیٹر محمد اکرم، سینیٹر آغا شاہ زیب درانی، سینیٹر دلاور خان اور وزارت توانائی کے حکام نے شرکت کی ۔جی ایم این پی سی سی محمد ایوب نے کمیٹی کو بتایا کہ ہماری پن بجلی کی کل استعدادکار 9769میگا واٹ ہے،5950پیدا ہورہی ہے تھی،تربیلاکے ٹنل 3کی مرمت کے بعد 7600میگاواٹ پیدا ہورہی ہے،ان میں سے5 آئی پی پیزسے302میگاواٹ بجلی پیداہوتی ہے 4224 میگا واٹ تربیلا سے پیدا ہورہی ہے،جبکہ استعداد کار 4888 میگا واٹ ہے۔3 پاوریونٹ منگلاکے خراب ہیں، 700میگا واٹ بجلی صرف ایک یونٹ سے پیدا نہیں ہورہی ہے 6ماہ سے کوئی کام نہیں ہورہاہے۔ 220 کلوواٹ کا ٹرانسفارمر4 ماہ سے لاہور ورکشاپ میں پڑا ہے، ٹھیک کرنے کی ذمے داری واپڈا کی ہے۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہاکہ 40ہزار میگا واٹ سستی بجلی پانی سے پیدا ہو سکتی ہے مگر ہم پانی ضائع کررہے ہیں،حکام نے کہاکہ پچھلے سال 19300 میگا واٹ پیدا ہوئی تھی اب 23ہزار میگا واٹ سے زیادہ بجلی پیدا کی ہے پن بجلی سے 7ہزار سے زیادہ بجلی پیدا ہوتی ہے ،پانی زیادہ ملے گا تو بجلی زیادہ بنے گی ۔آر ایف او کے چند پلانٹ کو کم چلایاہے،تھرکول سے بھی 660میگا واٹ بجلی ملنی شروع ہوگئی ہے۔ سینیٹرنعمان وزیر نے کہاکہ پاکستان میں سب سے مہنگی بجلی23سے 26 روپے ایک واٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے، ہمیں سستی بجلی پیدا کرنی ہوگی، سستی بجلی کے تمام پاور پلانٹچلانے کے بجائیمہنگے پلانٹ چلاتے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ ایک سال میں جو سستی بجلی ضائع ہوئی ہے اس کی رپورٹ دی جائے تاکہ ہم ایوان کو بتا سکیں۔ سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ اکتوبر 2018ء میں شروع ہوئی ٹنل 3 تربیلا کی جولائی تک صفائی مکمل ہوئی ہے پاور ڈویژن میرٹ آڈر پر عمل کررہا ہے ہم 25فیصد تک قابل تجدید بجلی پیدا کرنا چاہتے ہیں،جتنی بجلی ہمیں دی گئی، ہم نے سب لی ہے ،ہوا سے 11سو میگا واٹ بجلی پیدا ہوئی ہے اب 150میگا واٹ پیدا ہورہی ہے، 14ہزار میگاواٹ کے قابل تجدید بجلی کے کارخانوں کے معاہدے کیے ہیں بغیر کسی منصوبہ بندی کے جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے ہیں ۔جمپ پیر 2بنانا ہے تاکہ باقی 14منصوبوں کو بھی اس سے منسلک کیاجائے ۔ شبلی فراز نے کہاکہ پاکستان میں ہی سستے میٹر بنانے ہوںگے ، گردشی قرض لون لے کر کہاجاتاہے کہ گردشی قرض کم ہوگیاہے ،17سے 18فیصدآپ سود دے رہے ہیںبتایاجائے کہ سسٹم کے اندر کیا تبدیلی کی گئی ہے، سیکرٹری نے کہاکہ سبسڈی کی وجہ سے گردشی قرض میں اضافہ ہوا، بجلی کی چوری بھی ایک وجہ ہے۔شبلی فراز نے کہا کہ گردشی قرض کی ایک بڑی وجہ مہنگی بجلی بھی ہے ڈالر میں ادائیگیاں کی جارہی ہیں۔