افغانستان میں امن سے پاکستان میں تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی،عارف علوی

37

اسلام آباد (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان اصلاحات، ٹیکس کلچر کے فروغ، بدعنوانی کے خاتمے اور سادگی اختیار کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے اقتصادی استحکام حاصل کر سکتا ہے جس سے امیر اور غریب کے درمیان فرق کم کرنے میں مدد ملے گی۔ وہ منگل کو نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے زیر اہتمام پاکستان کے اقتصادی جائزہ اور آگے کا راستہ کی مناسبت سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔صدر مملکت نے کہا کہ ملک میں اقتصادی استحکام اس انداز سے آنا چاہیے جس سے عام آدمی کے معاشی حالات بہتر ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی امور کو دستاویزی شکل دینے،ٹیکس وصولی اور سادگی پر مبنی اقدامات پر زور درست ہے اور یہ قوم کے بہترین مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بڑی افسوسناک ہے کہ دنیا کی دولت کا 50 فیصد ایک سو امیر ترین افراد کے پاس ہے جو دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو ظاہر کرتی ہے اور یہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی دین ہے۔ صدر مملکت نے لوگوں کے درمیان مساوات کو یقینی بنانے اور انہیں روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ پرتعیش اشیاء کی درآمد میں کمی اور کالے دھن کے انسداد کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی اقتصادی استحکام کے حصول میں مدد مل سکتی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ بدعنوانی کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہوئی اور وہ اپنے سرمایہ کے حوالے سے عدم تحفظ کا شکار رہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ عالمی بینک پاکستان کو کاروبار میں آسانی کی اپنی درجہ بندی بہتر بنانے میں معاونت فراہم کرے گا جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو سکے گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ ملک سے غربت کے خاتمے کے لیے ضروری تھا کہ عوام میں شرح خواندگی کو فروغ دیا جاتا، اسی طرح لوگوں کو صحت کی اچھی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاء کی آپس میں تجارت میں تمام رکن ممالک کے لیے خوشحالی کے امکانات ہیں،اس سلسلے میں انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تنازع کشمیر سمیت تمام دوطرفہ تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ صدر مملکت نے پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مثبت جانب گامزن ہیں اور دونوں ممالک افغانستان میں امن کے معاملے پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں، افغانستان میں امن کے بعد تعمیرنو کا مرحلہ شروع ہونے سے پاکستان میں تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اس سیمینار میں معیشت کے لیے پالیسی سازی سے متعلق مفید تجاویز دی جائیں گی۔