پچاس ہزار روپے سے زائد کی خریداری پر شناختی کارڈ کا متبادل تلاش کر لیا گیا

452

اسلام آباد(کامرس ڈیسک)50 ہزار روپے سے زائد کی خریداروں نے شناختی کارڈ کا متبادل تلاش کر لیا ۔ ملک بھر کے بڑے اسٹوروں میں عام خریداروں کو 50 ہزار روپے سے زائد کی خریداری پرشناختی کارڈ کی کاپی دینے سے عام شہریوں کو پریشانی کا سامنا تھا اس سلسلہ میں خریداروں کاکہنا تھا کہ اس عمل سے ان کے شناختی کارڈ کے غیر قانونی استعمال میں اضافہ ہو نے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے عام شہریوں کے لیے رجسٹرڈ سیلز ٹیکس سیلر سے 50 ہزار روپے سے زائد کی خریداری کی صورت میں کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) دکھانا لازمی قرار دے دیا۔خاتون خریدار کے معاملے میں ان کے شوہر یا والد کا قومی شناختی کارڈ خریداری کے لیے درست سمجھا جائے گا۔تاہم یہ قانون مزید بتاتا ہے کہ اگر خریداری کی رقم 50 ہزار سے کم ہے اور یہ ایک عام صارف کو فروخت کی جارہی ہے تو اس صورت میں یہ شرط لاگو نہیں ہوگی۔قومی شناختی کارڈ کی شرط کا اصل مقصد کاروبار سے کاروبار (بزنس ٹو بزنس) لین دین کو دستاویزی شکل دینا ہے اور صارفین کی مخصوص تعداد ہی 50 ہزار سے زائد مالیت کی کچھ لین دین کرتی ہے اور وہ سیلز ٹیکس رجسٹرڈ بندے سے ہی کی جاتی ہے۔سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ تاجر برادری آخر ’شناختی کارڈ‘ کے نام سے اتنا کیوں گھبرا گئی ہے؟یہ شرط جعلی اور غیر تصدیق شدہ کاروباری ان خریداروں سے بچانے میں مدد دے گی، جس کے نتیجے میں ویلیو چین میں بڑا سیلز ٹیکس کا نقصان ہوتا ہے۔ایف بی آر کی جانب سے سیلز ٹیکس سرکلر کے ذریعے آنے والی وضاحت میں سیلز ٹیکس ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو واضح کیا گیا ہے، جس کے تحت خریداروں کے لیے رجسٹرڈ سیلز ٹیکس فرد سے خریداریوں پر قومی شناختی کارڈ دکھانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔اس سرکلر میں بتایا گیا ہے کہ 41 ہزار 484 ایسے سیلز ٹیکس رجسٹرڈ افراد ہیں جو ریٹرنز کے ساتھ اصل ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ایکٹ میں کی گئی ترمیم کے مطابق اگر سیلز ٹیکس رجسٹرڈ فرد سے خریداری کی جاتی تو خریدار کا شناختی کارڈ نمبر مخصوص صورت میں فراہم کیا جائے گا، شناختی کارڈ نمبر فراہم کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ خریدار کو سیلز ٹیکس قانون کے تحت رجسٹرڈ ہونا پڑے گا بلکہ غیر رجسٹرڈ فرد کو سیلز کی جاسکتی ہے۔