بدین بارش کے باعث بجلی پانی اور سیوریج کا نظام درہم برہم حیسکو افسران غائب

178

بدین(نمائندہ جسارت) پیر کی شام ہونے والی بارش کے بعد بجلی پانی اور ڈرینج کا نظام درہم برہم پبلک ہیلتھ اور حیسکو کے افسران غائب ڈرینج سسٹم کی موٹرز خراب اور جرنیٹرز کو تیل کی عدم فراہمی کے باعث میونسپل کے عملہ نے روڈ رستوں سے پرانے راویتی طریقہ کار ہاتھوں سے پانی نکاس کیا۔پیر کی شام ہونے والی بارش کے باعث بدین شہر سمیت دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گی اور اکثر علاقوں میں منگل کی شام تک بھی بجلی بحال نہ ہو سکی بجلی بند ہونے اور محکمہ پبلک ہیلتھ کی غفلت لاپرواہی اور ڈرینج سسٹم کے موٹرز پمپز مشینز اور جنریٹرز چلانے کے لیے تیل فراہم نہ کرنے کے باعث شہر بھر کا ڈرینج سسٹم بھری متاثر رہا جس کے باعث پانی گندے نالوں اور نالیوں سے پلٹ کر روڈ رستوں پر آگیا بارش کے پانی کی روڈ رستوں نے نکاسی کے لیے بدین میونسپل کمیٹی کے صفائی کے عملہ نے رات بھر ہاتھوں سے نکاسی کا کام جاری رکھ کر بارش کے کھڑے پانی کی نکاسی کا عمل مکمل کیا ۔بدین میونسپل کمیٹی کے ایڈ منسٹریٹرمیر منظور ٹالپور اور چیف میونسپل آفیسر منور ظریف نے رکن صوبائی اسمبلی حاجی تاج محمد ملاح کے کوآرڈینیٹر کمال قاضی کے ہمراہ رات بھر شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے پانی کی نکاسی اور صفائی کے کاموں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر صفائی کے کاموں میں مصروف ملازمین نے بتایا کہ ڈرینج کا نظام گزشتہ سات ماہ سے محکمہ پبلک ہیلتھ کے حوالے ہونے کے باعث ڈرینج سسٹم کی اکثر موٹرز پمپز اور جنریٹرز خراب ہیں اور جو درست حالت میں ہیں بجلی نہ ہونے کی صورت میں ان کو چلانے کے لیے تیل فراہم نہیں کیا جا رہا جس کے باعث میونسپل کمیٹی کے ملازمین کو ساری رات ہاتھوں سے پانی نکالنا پڑا دوسری جانب بجلی کی بندش کے باعث واٹرسپلائی کے تالابوں پر موجود جنریٹرز کو تیل کی سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے بھی شہر بھر میں پانی سپلائی نہیں ہو سکا گزشتہ دس روز سے شہر بھر میں پانی کی پہلے سے جاری قلت نے مزید شدت اختیار کر لی ہے۔بدین کے منتخب کونسلرز غلام حسین سومرو، گلزار میمن ،شاہد آفریدی، فتح گوپانگ ،اعجاز خواجہ، ریاض طہرانی اور رحیم کھٹی شہریوں ،تاجروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں خان صاحب ،اللہ بچایو میمن، حنیف سھڑٹھ ،نواز بھورو بھٹی اور رزاق سومرو ودیگر نے کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے حکم پر قائم واٹر کمیشن نے واٹر سپلائی اور ڈرینج کی بہتری کے لیے دونوں سسٹمز کو بلدیاتی اداروں سے واپس لے کر محکمہ پبلک ہیلتھ سروسز کے حوالے کیا پر محکمہ پبلک ہیلتھ میں پہلے سے قائم کمیشن اور کرپشن کے سسٹم نے صرف سات ماہ میں واٹر سپلائی اور ڈرینج سسٹم کو ناکارہ اور تباہ کر کے رکھ دیا جس کی مثال پانی کی شدید ترین قلت اور بحران ڈرینج سسٹم کا مفلوج ہو کر رہ جانا ہے۔ انہوں نے کہا محکمہ پبلک ہیلتھ کے زیراہتمام ضلع بھر میں چلنے والی سیکڑوں واٹرسپلائی اور ڈرینج سسٹم کی اسکیمیں اور ایک سو سے زائد فلٹر اور آراوز پلانٹ بند ہیں۔ محکمہ پبلک ہیلتھ کی ہر سال کروڑوں روپے کی کرپشن بوکس ٹینڈرز جعلی وائوچرز اور کوٹیشن کے ذرائع ہونے والی کرپشن میں ملوث بیس بیس سالوں سے قابض افسران اور اہلکاروں نے بدین شہر سمیت دیگر شہروں کی واٹرسپلائی اور ڈرینج سسٹم حوالے ہونے کے بعد واٹر سپلائی اور ڈرینج کے دونوں اہم محکموں کو بھی کرپشن کی نظر کردیا ہے جس کے باعث شہروں میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور ڈرینج سسٹم ناکارہ ہو کر رہ گیا ہے۔