پاکستان اور جماعت اسلامی (۱۹۵۱ء تا ۱۹۵۵ء) ( باب نہم)

223

جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس امیر جماعت شیخ سلطان احمد کی صدارت میں ۲۱ سے ۲۵؍ جون ۱۹۵۳ء کو ذیلدار پارک اچھرہ لاہور میں ہوا‘ جس میں وزیراعظم کے اس بیان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسلامی دستور کے نفاذ کی مہم کے بارے میں اہم فیصلے کیے گئے۔ ان فیصلوں کے مطابق یہ کہا گیا کہ جماعت اسلامی عام جلسے منعقد کرکے گرفتاریوں کا پس منظر اور اصل وجوہ (یعنی اسلامی دستور کے مطالبے کے سلسلہ میں حکومت کا رد عمل) واضح کرے گی‘ اور اسلامی دستور سے حکومت کے راہ فرار کوبے نقاب کرے گی۔ اس کے علاوہ پاکستان کا ایسا نام رکھنے کی تجویز کو عوام میں مقبول کرایا جائے گا جس سے اس ملک کا اسلام سے تعلق ظاہر ہو۔(۱۸) مجلس شوریٰ کے اجلاس سے کئی دن پہلے اس وقت کے امیر جماعت اسلامی شیخ سلطان احمد نے ایک بیان میں کہا تھا:
’’ پاکستان کی مرکزی قیادت میں غیر متوقع تبدیلی عمل میں آئے تقریباً دو ماہ کا عرصہ ہورہا ہے‘ لیکن ابھی تک عام لوگوں کے لیے ملک کے مختلف مسائل کے بارے میں حکومتی پالیسی کو سمجھنا اتنا ہی دشوار ہے جتنا خود اس قیادت کے وجو دمیں آنے کے اسباب کو‘‘۔ امیر جماعت نے اپنے بیان کے آخر میں کہا: ’’ اسلام کی بنیادوں سے ہٹ کر پاکستان میں دستور سازی کی ہر کوشش سخت اختلاف و انتشار اور نزاع و کش مکش کا موجب بن کر رہے گی۔ اس لیے ارباب اقتدار کا فرض ہے کہ وہ پاکستان‘ مسلمانوں اور خود اپنی نجات کے لیے اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے پاکستان میں مکمل اسلامی دستور اور شرعی قوانین کے نفاذ کی ایمان داری سے نیت اور سعی فرمائیں۔ ورنہ وہ یاد رکھیں کہ ملت اپنے اتحاد و تنظیم سے وزیراعظم پاکستان مسٹر محمد علی بوگرہ کے اس اعلان کو منوا کر چھوڑے گی کہ عوام پر کوئی آئین زبردستی نہیں ٹھونسا جاسکتا‘‘۔
اس سے پہلے جماعت اسلامی کے ترجمان ہفت روزہ ’’قاصد‘‘ کوئٹہ نے اپنے ۱۸؍ اپریل ۱۹۵۳ء کے شمارے میں ’’نئی کابینہ‘‘ کے عنوان سے اپنے اداریہ میں لکھا تھاکہ: ’’اس وقت جو تغیر رونما ہوا ہے۔ کیا اس سے ملک اور اہل وطن کو فی الواقع کوئی فائدہ پہنچ سکے گا؟ صرف ناموں کے بدلنے سے فرق نہیں پڑتا‘ کیونکہ پارٹی وہی برسراقتدار ہے اور جب تک وہ اصول و نظریات نہیں بدلے جائیں گے جو کہ وجہ شر و فساد ہیں‘ کامیابی مشکل ہے۔‘‘
ان ہی دنوں امیر جماعت اسلامی پنجاب نے راولپنڈی میں ارکان و متفقین کے ایک اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے آئینی ذرائع ہی سے کام لیتے ہوئے اپنے مقصد کے لیے جدوجہد کرنے کے عزم کی تجدید کی اور کہا کہ جماعت اسلامی نے اب تک دوسرے اسلام پسند عناصر سے مل کر آئینی ذرائع ہی سے دستور کی جنگ لڑی ہے۔ انہوںنے موجودہ دستور ساز مجلس کو توڑنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ: اس اسمبلی پر لاکھوں روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ اب بجائے اس کے کہ اس کو ختم کرکے دستور کے مسئلہ کو مزید کھٹائی میں ڈالا جائے‘ اسی دستور ساز اسمبلی پر پورا دباؤ ڈال کر جمہور کے احساسات اور جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ایسا دستور بنوایا جائے جو خالص اسلامی دستور ہو۔ جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے جون ۱۹۵۳ء کے اجلاس کے فیصلے کے مطابق پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں عام جلسے منعقد کیے گئے‘ جن میں حکومت کے آئندہ عزائم کے بارے میں اندیشوں کا کھل کر ذکر کیا گیا۔ان جلسوں میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے عوام کو آگاہ کیا کہ برسراقتدار طبقہ‘ جماعت کو راستے سے ہٹاکر اور ان کے رہنماؤں کوجیلوں میں رکھ کر ملک میں کیا من مانی کرنا چاہتاہے۔ انہوںنے اسلامی دستور سے فرار کی سازشوں کو بھی بے نقاب کیا۔
یومِ دستور۔جماعت اسلامی کی مہم
۳۱؍ جولای ۱۹۵۳ء کو جماعت اسلامی نے ملک کے بڑے بڑے شہروں میں ’’یوم دستور‘‘ منایا۔(۱۹) عوام نے اس موقع پر متفقہ قرار دادیں منظور کرکے حکومت کو بھیجیں کہ وہ ملک میں جلد از جلد ایک مستقل اسلامی آئین نافذ کرے۔ قرار دادوں میں مولاناسیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور دیگر بے قصور افراد کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ امیر جماعت اسلامی شیخ سلطان احمد نے لورالای‘ بلوچستان میں ۳۱ ؍جولای کو ’’یوم دستور ‘‘کے سلسلے میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا۔ آخر میں ایک مکمل اسلامی دستور بنانے اور عارضی دستور کے ناقابل قبول ہونے کی قراردادیں منظور کی گئی۔
۲۹ اور ۳۰؍ اگست ۱۹۵۳ء کو جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس نو منتخب امیر جماعت اسلامی شیخ سلطان احمد کی زیرصدارت لاہور میں ہوا(۲۰)‘ جس میں دستوری مہم کا جائزہ لیا گیا اور اس مہم کو جاری رکھنے کے لیے درج ذیل اہم فیصلے کیے گئے:
۱۔ ملک بھر میں عام جلسے منعقد کیے جائیں۔
۲۔ وفود تشکیل دے کر دستور ساز اسمبلی کے ارکان سے ملا جائے۔
۳۔ مذاکرات کے نتیجہ خیز نہ ہونے کی صورت میں مظاہروں کا پروگرام بنایا جائے۔
۴۔ ایک پمفلٹ شائع کیا جائے جس میں عارضی دستور کے جملہ پہلوؤں پر روشنی ڈالی جائے۔
حکومت نے پریس پر ناروا قسم کی پابندیاں لگا رکھی تھیں۔ پریس ایمرجنسی ایکٹ کا مقصد آزادانہ تنقید کا گلا گھونٹنا تھا۔ ضلع سرگودھا جماعت اسلامی کے چند کارکنوں کے خلاف ‘ شائع شدہ مواد کے دو پمفلٹ چھپوانے کے جرم میں پولیس نے دو مقدمات دائر کرلیے۔ اور ۸؍ ستمبر ۱۹۵۳ء کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سرگودھا کی عدالت نے انہیں جرمانے کی سزائیں سنائیں۔
۵؍ ستمبر ۱۹۵۳ء کو ڈھاکا میں مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی اور ارکان دستور ساز اسمبلی کا ایک اجلا س منعقد ہوا۔ اسی موقع پر جماعت اسلامی کے وفود نے ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں کیں اور انہیں قوم کے مطالبے سے آگاہ کیا۔ اس سے پہلے اگست میں مرکز جماعت اسلامی پاکستان کراچی سے دستور ساز اسمبلی کے نام خطوط بھیجے گئے تھے‘ جن میں ان کے احساس ذمہ داری کو ابھارا گیا۔
(جاری ہے)