قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ

235

پس کوئی ایسا شخص جو اْس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اْس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے، ورنہ تو ہلاکت میں پڑ جائے گا۔ اور اے موسیٰؑ، یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘۔ موسیٰؑ نے جواب دیا ’’یہ میری لاٹھی ہے، اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں، اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اس سے لیتا ہوں‘‘۔ فرمایا ’’پھینک دے اس کو موسیٰؑ‘‘۔ اس نے پھینک دیا اور یکایک وہ ایک سانپ تھی جو دَوڑ رہا تھا۔ فرمایا ’’پکڑ لے اس کو اور ڈر نہیں، ہم اسے پھر ویسا ہی کر دیں گے جیسی یہ تھی۔ اور ذرا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے یہ دوسری نشانی ہے۔ (سورۃ طہ:16تا22)

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے قبل فوت ہو جائیں اللہ تعالیٰ اُسے ان بچوں کے ساتھ رحم دلی کی بدولت جنت میں داخل فرما دے گا (اس موقع) ایک عورت بولی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو بچوں کا کیا حکم ہے آپؐ دو بچوں کا کیا حکم ہے آپ نے فرمایا ہاں دو بچوں کی وفات کی بدولت بھی جنت ملے گی (بخاری، مسلم، سنن ترمذی) معجم الطبرانی اوسط کی روایت میں ہے کہ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہ نے ایک بچے کے بارے میں بھی دریافت فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا ہاں ایک کا بھی یہی حکم ہے۔