بیت المقدس میں فلسطینی بستی کی مسماری پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس

182

مقبوضہ بیت المقدس کی وادی الحمص میں بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری کے اسرائیلی اقدام اور اس کے مضمرات پر غور کے لیے منگل کی شام سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اقوام متحدہ کی مندوب برائے سیاسی امور روز میری دی کارلو نے کونسل کو فلسطین اسرائیل تنازع پر بریفنگ دی اور کہا کہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان بات چیت کے جمود کے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔

ادھر سلامتی کونسل میں جرمنی کے مندوب نے کہا کہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان تنازع سیاسی نوعیت کا ہے اور اسے سیاسی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمنی دو ریاستی حل کے فارمولے کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 جس پر امریکا نے بھی اتفاق کیا تھا عالمی برادری اور اسرائیل کو اس میں پیش کردہ نکات کا پابند بناتی ہے۔

جرمن سفیر نے فلسطین میں یہودی آباد کاری اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو دو ریاستی حل کے نظریے کے خلاف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا غرب اردن کے علاقوں کو ضم کرنے کا اشارہ اور 1967ء کی سرحدوں میں کسی قسم کی تبدیلی کے خطرناک نتائج سامنے آئیں‌ گے۔

جرمن مندوب نے غرب اردن اور بیت المقدس میں فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری کو اوسلو معاہدے کی کھلی خلاف ورزی اور فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کی کوششوں کے مترادف قرار دیا۔

اجلاس سے جنوبی افریقا کے مندوب نے بھی خطاب کیا اور انہوں‌ نے بھی فلسطین میں یہودی آباد کاری، مسجد اقصی کے اطراف میں‌ کھدائیوں اور فلسطینیوں‌کے گھروں کی مسماری پر عالمی برادری کی خاموشی کو مجرمانہ غفلت قرار دیا۔

سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں چین کے مندوب نے بھی خطاب کیا اور انہوں‌ نے بیت المقدس میں فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری کی مذمت کی اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور دیر پا حل کی ضرورت پر زور دیا۔