غریب کے پاس مہنگے علاج کے پیسے نہیں تو حکومت ادا کریگی، ڈاکٹر ظفر

56

اسلام آباد (آن لائن) وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ہدایت کی ہے اگر کسی غریب کے پاس مہنگے علاج کیلیے رقم نہیں تو معالج اس کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے سے انکار نہ کریں، رقم کی ادائیگی حکومت کرے گی۔ پائیدار ترقی کیلیے پالیسی پر کام کرنے والے ادارے ایس ڈی پی آئی کی جانب سے منعقدہ سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قوانین میں صحت کے لیے سہولیات بنیادی حقوق میں شامل نہیں تاہم یہ ذمے داری صوبائی حکومتوں کی ہے اور آئین کی 18ویں ترمیم اس
بات کی اجازت دیتی ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ چھوٹی بیماریوں کیلیے بڑے اسپتالوں میں جانے کا جواز نہیں بنتا، چھوٹی بیماریوں کے لیے الگ اسپتال ہونا چاہیے کیونکہ چھوٹی بیماریوں کے علاج کیلیے خرچ اور وقت زیادہ لگتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹی بیماریوں کا خاتمہ زیادہ ضروری ہے اور اس کیلیے صحت پر سرمایا کاری کرنی ہوگی۔ پاکستان صحت پر فی شخص 34 ڈالر خرچ کرتا ہے جو سب سے کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پرائمری ہیلتھ سسٹم بہت اہم ہے بس ہمیں پالیسیوں کو جدید بنانا ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈاکٹروں میں بڑے مافیا ہیں جو سستے یا مفت علاج کو روکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت آبادی کو وزارت صحت کے ساتھ ضم کیا گیا جو مسائل میں اضافے کا سبب بنا اور اب ہمیں دیکھنا ہو گا کہ کونسی وزارتوں کو ختم، بہتر یا ضم کرنا ہے۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ترقیاتی کاموں کی وجہ سے ماحولیات میں بیماریاں بڑھ رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ ترقی پذیر ملک میں ایک چوتھائی اموات زہریلی اور گندی آب و ہوا کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر ظفر