حکومت مدارس اور علما کے خلاف پروپیگنڈا بند کرے،ملی یجہتی کونسل سندھ

412
کراچی، ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر اسداللہ بھٹو کی زیر صدارت صوبائی کونسل کا اجلاس ہورہا ہے،قاضی احمد نورانی ،حسین محنتی و دیگر بھی موجود ہیں
کراچی، ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر اسداللہ بھٹو کی زیر صدارت صوبائی کونسل کا اجلاس ہورہا ہے،قاضی احمد نورانی ،حسین محنتی و دیگر بھی موجود ہیں

کراچی (نمائندہ جسارت)ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر اسد اللہ بھٹو کی زیر صدارت اداہ نور حق میں صوبائی کونسل کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں صوبائی جنرل سیکرٹری قاضی احمد نورانی،جماعت اسلامی سندھ کے امیر محمد حسین محنتی اور دیگر عہدیداران نے شر کت کی ۔اجلاس کے اختتام پر مشترکہ طور پر ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ۔ جس میں مطالبہ کیا گیا کہ دینی مدارس اور علما کرام کے خلاف منفی اور زہریلا پروپیگنڈا بند کیا جائے ۔ حکومت ملک میں قادیانیوں کی سر پرستی کرنے ، عقیدہ ختم نبوت اور توہین رسالت کے قوانین میں ترمیم کرنے سے باز رہے ۔ صوبائی حکومت تعلیمی اداروں میں ناچ گانے کی کلاسیں شروع کرنے ، شادی کے لیے 18سال کی عمر کی پابندی اور قبول اسلام کے لیے بھی 18سال کی عمر کی قید لگانے کی کوشش نہ کرے ۔ چرم قربانی جمع کرنے والے اداروں اور مدارس کو فوری طور پر این او سی جاری کرے ۔ اعلامیے میں علما کرام سے اپیل کی گئی کہ نماز جمعہ کے اجتماعات اور خطبات میں عقیدہ ختم نبوت اور توہین رسالت کے قوانین میں حکومت کی جانب سے کوششوں کے حوالے سے عوام الناس کو آگاہ اور حکومتی عزائم کو بے نقاب کیا جائے ۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ امت مسلمہ متفقہ طور پر قادیانیوں کو کافر سمجھتی ہے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف قادیانیوں کی سازشیں عرصہ دراز سے جاری ہیں۔ علما صبر سے کام لیتے ہوئے پُرامن طریقے سے ان کے پروپیگنڈے کا جواب دیتے ہیں اور عامۃ المسلمین کو قادیانیوں کی سازشوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ حال ہی میں امریکی صدر ٹرمپ سے قادیانی نمائندے کی ملاقات پر پوری امت مسلمہ میں تشویش کی لہر دوڑگئی ہے اور امریکا کی طرف سے قادیانیوں کی سر پرستی کے عندیے پر پوری امت افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ پاکستان میں بھی قادیانیت کی سازشیں بڑھتی جا رہی ہیں اسلامیان پاکستان کسی بھی قیمت پر منکرین ختم نبوت کو کسی قسم کی رعایت دینے پر تیار نہیں۔ حکومت وقت اپنی ذمے داریاں پوری کرے اور قادیانیوں کو کسی بھی قسم کی رعایت دینے سے باز رہے نیز وزیر اعظم عمران خان امریکا کے صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں امریکا کی قادیانی نواز پالیسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 20 کروڑ مسلمانان پاکستان کی نمائندگی کا حق ادا کریں اور امریکا کو قادیانیت نوازی سے باز رکھیں۔مدارس دینیہ ایک قومی اور دینی اثاثہ ہیں جومسلمانوں کو قرآن و سنت کے مطابق تعلیم دے رہے ہیں۔ علما، مشائخ اور مدارس سب مسلمانوں کے لیے خصوصاً انسانوں کے لیے عموماً محبت اور اطاعت اللہ و رسولؐ کی تعلیم و تربیت دیتے ہیں۔منبر و محراب سے ہمیشہ پاکستان کی یکجہتی و سلامتی اور فلاح و بہبود کے لیے آواز بلند کی جاتی ہے۔ لیکن امریکا اور مغرب کے ایما پر ہر آنے والی حکومت مدارس کے خلاف بے بنیاد زہریلا پروپیگنڈا کرتی ہے اور بلا وجہ علماو مشائخ پر دہشت گردی کا غلط الزام لگایا جاتا ہے۔ مدارس کی تنظیمات نے ہمیشہ کھلے دل سے مذاکرات کیے ہیں اور دینی علوم کے ساتھ جدید تعلیم کی حمایت کی ہے۔ لہٰذا ملی یکجہتی کونسل تنظیمات مدارس دینیہ کے موقف کی پُر زور حمایت کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ علما اور مدارس کے خلاف منفی زہریلا پروپیگنڈا بند کیا جائے اور سوتیلی ماں کا سلوک کرنے کے بجائے یکساں نظام تعلیم کے تحت جدید علوم مدارس میں پڑھائے جائیں اور اسکول و کالجز اور یونیورسٹی میں باقاعدہ دینی تعلیم کا بندوبست کیا جائے تا کہ آئندہ نسل اچھے پاکستانی اور سچے مسلمان کے طور پر سامنے آئے۔صوبائی وزیر تعلیم کی طرف سے اسکولوں میں ناچ گانے کی کلاسز، موسیقی سکھانے کے لیے اساتذہ کا تقرر کے اعلان کی پُر زور مذمت کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں پاکستان بالخصوص وادی مہران صوفیا کی سر زمین ہے اس صوبے میں نسل نو کو اسلامی اقدار کے بجائے بالااِتفاق قرآن و سنت کی روشنی میں ناچ گانے کے سکھانے کا مطلب کا فرانہ تہذیب کا فروغ ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ نیز وزیر تعلیم کے فیصلے کی آڑ میں مبلغ اسلام شاہ عبد العلیم صدیقی کے نام پر نارتھ ناظم آباد بلاک اے میں قائم علیمہ گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول اور دیگر اسکولوں کو ختم کرنے کی بھی مذمت کی گئی۔ حکومت کو وزیر تعلیم کے خلاف اقدام کرنا چاہیے۔شادی ایک شرعی معاملہ ہے۔ امت مسلمہ 14 سو سال سے اس پر عمل پیرا ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں شادی کے لیے18 سال کی عمر کی پابندی غیر اسلامی ہے جبکہ دستور پاکستان غیر اسلامی قانون کی اجازت نہیں دیتا۔ لہٰذا 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی کا بل غیر اسلامی اور غیر آئینی ہے، اس کو فوری طور پر روکا جائے ۔ امریکا کی بعض ریاستوں اور بعض مغربی ممالک میں 13 سال کی عمرکی لڑکی کو شادی کی اجازت دی جاتی ہے چہ جائیکہ پاکستان میں18 سال کی عمر کا تعیّن کیا جائے۔سند ھ اسمبلی میں اسلام قبول کرنے کے لیے18 سال کی عمر کی قید اور دیگر غیر اسلامی دفعات پر مشتمل بل پر بحث سے سند ھ کی عوام میں شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ کیونکہ رسول ؐ نے حضرت علی ؓ کی9 سال کی عمر میں آپ کا اسلام قبو ل فرمایا تھا اور کئی صحابہ 18 سال کی عمر سے پہلے اسلام لائے ۔ جس امر کی ا جازت رسول ؐ نے دی ہو اس کو سندھ اسمبلی یا کوئی بھی فورم ختم نہیں کر سکتا۔ یہ حقوق انسانی کی بھی شدید خلاف ورزی ہے کہ ایک شخص اپنی مرضی سے کوئی عقیدہ قبول کرنا چاہے اس پر قید لگا دی جائے ۔ لہٰذا حکومت اس بل کو فوری واپس لے۔عید الاضحی ایک مذہبی تہوار ہے اور اس موقع پر جانوروں کی قربانی واجبات میں سے ہے الحمد للہ اسلامیانِ پاکستان بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ قربانی کرتے ہیں۔ مدارس اسلامیہ، دینی ادارے اور فلاحی تنظیمیں قرآن و سنت کے بتائے گئے مصارف پر قربانی کی کھالوں کی رقم خرچ کرنے کے لیے چرم قربانی جمع کرنے کی مہم چلاتی ہیں۔ اس مذہبی فریضے کو پُرامن طور پر سر انجام دینے کے لیے ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے تا کہ ہر قربانی کرنے والا اپنی مرضی کے مطابق چرم قربانی عطیہ کرسکے، انتظامیہ چرم قربانی کی چھینا جھپٹی روکنے کے لیے اقداما ت کرے۔ نیز چرم قربانی جمع کرنے والے اداروں اور مدارس کو فوری طور پراین او سی جاری کیے جائیں۔
اسد اللہ بھٹو