پاکستان کرکٹ ٹیم تبدیل کروں گا، عمران خان

191

 

واشنگٹن (جسارت نیوز)1992کے ورلڈکپ کی فاتح ٹیم کے کپتان اور وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کرکٹ ٹیم میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔واشنگٹن میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ میں نے انگلینڈ سے اپنی کرکٹ کا آغاز کیا لیکن سب سے زیادہ دنیا میں کرکٹ کا ٹیلنٹ پاکستان میں دیکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ کرکٹ میں آسٹریلیا کی ٹیم سب سے زیادہ کامیاب رہی کیونکہ وہاں میرٹ ہے۔عمران خان نے کہا کہ ورلڈ کپ میں پرفارمنس دیکھنے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کو ٹھیک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلے ورلڈ کپ میں پاکستان کی بہترین ٹیم لائیں گے اور کرکٹ کا نظام ٹھیک کریں گے۔حالیہ ورلڈ کپ کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کرکٹ کو درست کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ بہت زیادہ مایوسی ہوئی ہے لیکن میرے الفاظ کو یاد رکھیں انشاء اللہ آئندہ ورلڈ کپ میں ہم پیشہ ور اور بہترین ٹیم لائیں گے۔

اسلام آباد (جسار ت نیوز)وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ ا سپورٹس فیڈریشنز کو پاکستان اسپورٹس بورڈ سے مدد حاصل کرنے کیلئے اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا ہوگا۔ ملک میں اسپورٹس کلچر کو دوبارہ بحال کرنا ہوگا۔ گزشتہ روز سرکاری خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے ان فیڈریشنوں کو بھی مدد فراہم کریں گے جو اب تک اپنے متعلقہ کھیلوں کو فروغ دینے میں زیادہ تر ترقی نہیں کر سکیں مگر ان کا خیال ہے کہ ہم ان کو لاکھوں روپے دے دیں گے مگر ان کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے، اب ایسا ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نئے ٹیلنٹ کیلئے اسکولوں کی سطح پر کھیلوں کے فروغ کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کھیلوں کو نصاب کا حصہ بنانے کیلئے اقدامات کریں گے۔ وفاقی وزیر جو پاکستان اسپورٹس بورڈ کی بھی صدر ہیں نے کہا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے 19 فیڈریشنوں کی نشاندہی کی ہے جن کی کارکردگی بہتر ہے اور اب ان کی کارکردگی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان کو فنڈز فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک میں اسپورٹس کلچر کو دوبارہ بحال کرنا ہوگا اور اس کیلئے ان فیڈریشنوں کی مدد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کھیل شہر کی سرگرمیوں میں نوجوانوں کو مواقع فراہم کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جعلی فیڈریشنیں جن کا مقصد محض رقم بٹورنا تھا، وہ اب اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو ایک بڑا دھچکا لگا جس کی وجہ سے تقریباً ہر کھیل متاثر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد کھیل ایک صوبائی ا سبجیکٹ بن چکا ہے اور اب صوبوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے صوبوں میں کھیلوں کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو کھیلوں کو گراس روٹ لیول پر فروغ دینا ہوگا اور اس کیلئے ضروری ہے کہ ا سکول کی سطح پر کھیلوں پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول کی سطح پر یہ بہتر جانچا جاتا ہے کہ آیا ایک بچہ کرکٹ کھیلنا چاہتا ہے یا اس کی دلچسپی ہاکی فٹ بال، ٹینس یا کسی اور کھیل میں، اس کیلئے ضروری ہے کہ ا سکول کی سطح پر بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور کھیلوں کو نصاب کا حصہ بنایا جائے اور اس کیلئے ہم اقدامات کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ 2 سے ۳ ماہ میں aسپورٹس ڈپلومیسی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ کانفرنس اگست کے آخر میں یا ستمبر کے شروع میں منعقد کی جائے گی اور اس میں باہر کے a سکولوں سے ماہرین کو بھی مدعو کیا جائے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کانفرنس میں شامل ماہرین اور پروفیشنل ایسی آراء دیں گے جن سے ملک میں ایک صحت مندانہ کھیلوں کا کلچر فروغ پائے گا۔