ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر حل کرانے کی پیشکش کردی

238

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر حل کرانے کی پیشکش کردی۔پیر کو وزیراعظم عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچے۔ ان کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد بھی موجود تھے۔امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے پر باہر آکر عمران خان کا استقبال کیا، اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے پرجوش مصافحہ کیا۔ بعدازاں دونوں رہنماؤں نے ون آن
ون ایک گھنٹے ملاقات کی دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال، مسئلہ کشمیر، افغان امن عمل اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے ۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں بھارت اور افغانستان کے معاملے پر گفتگوہوئی، امریکا پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات میں بہتری کا کردار ادا کرسکتا ہے طویل تصفیہ طلب مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی کردار ادا کرسکوں تو مجھے خوشی ہوگی، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی مسئلہ کشمیر پر مدد کے لیے کہا ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ عمران خان کی اس بات سے 100 فیصداتفاق کرتاہوں کہ افغان مسئلے کا حل مذاکرات سے ہوگا ، اسی لیے افغانستان میں اپنی افواج کی تعداد کم کررہے ہیں، پاکستان افغان امن عمل کے لیے ہماری کافی مدد کررہا ہے اور پاکستان افغان عمل میں کردار ادا کرکے لاکھوں زندگیاں بچا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا خطے میں پولیس مین بننا نہیں چاہتا بلکہ امریکا پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ ہمارے اہم تعلقات ہیں، پاکستان عظیم لوگوں کا عظیم ملک ہے اور میرے کئی اچھے دوستوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ٹرمپ نے پاکستان کے دورے کے حوالے سے ایک سوال پر مزاحیہ انداز میں کہا کہ عمران خان کی جانب سے تاحال کوئی دعوت نہیں ملی لیکن میں پاکستان کا دورہ کرنا چاہوں گا۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ انتہائی خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی،جس میں پاک بھارت کشیدگی پر بات ہوئی،کشمیر پر ثالثی کی امریکی پیشکش قبول کرتے ہیں، ٹرمپ کی قیادت میں امریکا بھارت اور پاکستان کو قریب لاسکتا ہے، ہم بھارت کے ساتھ مثبت بات چیت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، امید ہے طالبان کو بات چیت جاری رکھنے پر آمادہ کرسکوں گا، ہم افغان امن معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں اور ہمارا کردار افغان قیادت کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔عمران خان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ جوبھی وعدہ کرے سے اسے نبھائے گا۔علاوہ ازیں پاکستان اور امریکا کے درمیان وفود کی سطح پر بھی ملاقاتیں ہوئیں جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شریک رہے۔
ٹرمپ عمران ملاقات