حیدرآبادمیں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ ،نظام زندگی مفلوج ،تاجروں کا احتجاج ،جلاو گھیراؤ

184

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد میں بجلی کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس سے نظام زندگی مکمل طرح سے مفلوج ہوکر رہ گئی ہے ، جبکہ تاجروں کی جانب سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے جلائو گھیرائو کے ساتھ حیسکو حکام کیخلاف نعرے بازی کی گئی، اہل علاقہ کے مطابق بجلی کی اعلانیہ 8 اور غیر اعلانیہ 12 گھنٹے تک بجلی کی سپلائی معطل رہتی ہے، حیسکو دفتر میں متعدد بار شکایات درج کرائی گئیں کوئی شنوائی نہیں ہوئی، رہنما انجمن تاجران کے مطابق ریشم بازار، صرافہ بازار اور شاہی بازار میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور اضافی بلنگ سے کاروبار مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق حیدرآباد میں شدید حبس اور گرمی، بجلی کی طویل بندش سے شہری بلبل اٹھائے حیدرآباد میں 2روز سے شدید حبس اور گرمی کی صورتحال ہے جس کے باعث سانس لینا دشوار ہوچکا ہے ایسے حالات میں حیسکو کی جانب سے بھی بجلی کی اعلانیہ 6 سے 8 گھنٹے اور غیر اعلانیہ 10 سے 12 گھنٹے بجلی کی سپلائی معطل ہونے سے شہریوں کی حالت خراب ہوگئی سارانظام زندگی مفلوج ہوچکا ہے۔ آفندی ٹاؤن، فیضان مدینہ، ٹنڈو طیب، گرونگر ودیگر علاقوں میں پھلیلی سب ڈویژن سے سپلائی معطل رہی جس کے باعث گنجان آباد ان علاقوں میں شہری بلبل اٹھا جبکہ سرفراز کالونی، لطیف آباد، لیاقت کالونی، گاڑی کھاتہ سب ڈویژن سمیت دیگر علاقوں میں بھی صورتحال یہ ہی رہی کئی علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے بجلی نہ ہونے کے باعث کئی علاقوں میں پانی کی بھی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ دوسری جانب رات گئے شہر میں تیز ہواؤں کے ساتھ مسلا دھار بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا تاہم حیسکو کی ناقص کارکردگی اور مون سون کے حوالے سے کئے گئے اقدامات کا پول بھی کھل گیا ۔پہلی بوند کے ساتھ ہی شہر کا رسالہ روڈ‘ گول بلڈنگ‘ صدر ‘ گاڑی کھاتہ ‘ لیاقت کالونی‘ پریٹ آباد‘ لطیف آباد کے بیشتر یونٹ سمیت بڑا حصہ تاریکی میں ڈوب گیا جبکہ کئی مقامات پر ٹرانسفارمر ٹرپ ہوئے تو کہیں تار گرگئے جس کے باعث شہریوں کو مزید بجلی کی بندش کا عذاب سہنے کو مل گیا ابتدائی طور پر تو بارش سے کوئی نقصان نہیں اطلاع نہیں ملی تاہم واسا کی جانب سے توجہ دلانے کے باوجود نالوں اور گٹروں کی صفائی نہ ہونے اور پہلے سے ہی اوور فلو کا شکار ہونے کے باعث شہر کے نشیبی علاقوں کے علاوہ ایک شاہراہوں پر پانی جمع ہوگیا جس کے باعث نظام زندگی مفلوج ہوگیا۔ادھر ریشم بازار اور دیگر علاقوں میں بجلی کی طویل بندش اور ڈیٹکشن بلوں کے اجرا کیخلاف انجمن تاجران ریشم بازا رکی جانب سے کوہ نور چوک پر دکانداروں نے احتجاج کیا، ٹائر جلائے اور حیسکو کی انتظامیہ کیخلاف نعرے بازی کی۔ دکانداروں کا کہنا تھاکہ ریشم بازار، صرافہ بازار اور شاہی بازار میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور اضافی بلوں کی وجہ سے کاروبار تباہ ہوگیا ہے، شہر کے مین بازار وں میں 12-12گھنٹے تک بجلی بند کردی جاتی ہے، شدید گرمی اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ان بازاروں میں کاروبار کرنے والے تاجروں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کئی بار حیسکو کے اعلیٰ افسران، متعلقہ سب ڈویژن کے اہلکاروں کو اس حوالے سے شکایتیں کی گئی ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں کی جارہی، بجلی کی بندش روز کا معمول بن گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پہلے ہی کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں اوپر سے بجلی کی بندش نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے۔ دکاندار جب بھی اس مسئلے پر احتجاج کرتے ہیں تو انہیں بجلی کے اضافی بل جاری کردیے جاتے ہیں۔ چھوٹی دکان پر بھی 30سے 35 ہزار روپے کا اضافی لگادیا جاتا ہے جو غریب دکاندار ادا نہیں کرسکتے تو ان کی بجلی منقطع کردی جاتی ہے۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کا فوری سدباب کیا جائے اور دکانداروں اور تاجروں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
حیدرآباد/بجلی لوڈ شیڈنگ