اسرائیل نے 16عمارتیں مسمار کردیں، 100 فلسطینی خاندان بے گھر

443
مقبوضہ بیت المقدس: مغربی کنارے میں قابض صہیونی فوج کے حصار میں فلسطینیوں کی رہایشی عمارتیں مسمار کی جارہی ہیں
مقبوضہ بیت المقدس: مغربی کنارے میں قابض صہیونی فوج کے حصار میں فلسطینیوں کی رہایشی عمارتیں مسمار کی جارہی ہیں

 

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کی بڑی مہم شروع کردی ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق پیر کے روز مقبوضہ فلسطین کے گاؤں صور باہر میں فلسطین شہریوں کے گھروں کو مسمار کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔ صور باہر پر اسرائیل نے 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔ فلسطینی شہریوں کی طرف سے شدید احتجاج اور بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کی پروا نہ کرتے ہوئے اسرائیلی فوج نے بلڈوزروں اور بارودی مواد کی مدد سے 16 رہایشی عمارتوں کو گرا دیا، جن میں 100 سے زیادہ اپارٹمنٹ تھے۔ وادی الحمص کے رہایشیوں نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ یہ کارروائی نصف شب کے بعد ہی شروع کر دی گئی تھی، جب سیکڑوں اسرائیلی فوجیوں نے بلڈوزروں کے ساتھ صور باہر کو گھیرے میں لیا۔ فلسطینی تنظیم پی ایل او نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ان گھروں میں مقیم لوگوں کو جن میں بڑی تعداد میں معصوم بچے اور عورتیں بھی ہیں، نصف شب کو بیدار کر کے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا۔ اسرائیلی فوج ان گھروں کو جو اسرائیل کی طرف سے کھڑی کی گئی دیوار کے قریب واقع ہیں خطرہ تصور کرتی ہے۔ اسرائیل کی سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ اسرائیلی فوج کے اس موقف کو تسلیم کرتے ہوئے ان رہایشی عمارتوں کو گرانے کے لیے پیر تک کی مہلت دی تھی۔ فلسطین شہریوں اور اسرائیل فوج کے درمیان اس معاملے پر 7سال سے مقدمہ بازی جاری تھی۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے ایک ایسی مثال قائم ہو گی، جس کو بنیاد بنا کر ان تمام گھروں اور عمارتوں کو گرایا جا سکتا ہے جو سیکڑوں کلو میٹر طویل دیوار کے قریب واقع ہیں، جو مقبوضہ غرب اردن کے گرد بنائی گئی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق دس سال قبل فلسطینی اتھارٹی نے ان عمارتوں کی تعمیر کے اجازت نامے جاری کیے تھے۔ اسرائیل کی کارروائی پر بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سے بیت المقدس کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی میں مزید اضافہ ہوگا۔ فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ نے اسرائیلی جارحیت پر جرائم کی عالمی عدالت سے رجوع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ فلسطینی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیلی کارروائی مقبوضہ بیت المقدس کے لوگوں کو ان کے گھروں اور زمین سے زبردستی بے دخل کرنے کا ایک تسلسل ہے، جو ایک جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ جب کہ فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ عالمی فوج داری عدالت میں فلسطین میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مکانات کی مسماری کے ظالمانہ اقدامات کی عالمی تحقیقات کے لیے کوششیں کررہی ہے۔ فلسطینی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوب مشرقی بیت المقدس کے علاقے صور باہر میں فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری کے اسرائیلی فیصلے پرعمل روکنے کے لیے تل ابیب پرمختلف اطراف سے دبائو ڈالا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں فلسطین نے عالمی عدالت انصاف سے بھی رابطہ کیا ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ صور باہر کے متاثر فلسطینیوں اور گھروں کی مسماری کے خطرے کاسامنا کرنے والے شہریوں نے اسرائیلی سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی جسے مسترد کردیا گیا ہے۔ جب کہ اقوام متحدہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ گھروں کو توڑنے کا سلسلہ فوری روک کر فلسطینیوں کے لیے منصفانہ پالیسی بنائے۔