شام میں بازار پر روسی بمباری، 40 شہری شہید

275
معرۃ النعمان (ادلب): روسی بم باری سے دکانیں تباہ ہوگئی ہیں‘ امدادی کارکن ملبے سے لاشیں اور زخمی نکال رہے ہیں
معرۃ النعمان (ادلب): روسی بم باری سے دکانیں تباہ ہوگئی ہیں‘ امدادی کارکن ملبے سے لاشیں اور زخمی نکال رہے ہیں

 

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں بشارالاسد کی حلیف روسی فوج کی بم باری میں کم از کم 40 شہری شہید اور 105زخمی ہوگئے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پیر کے روز جنگی طیاروں نے ادلب کے جنوبی شہر معرۃ النعمان میں مصروف بازار کو نشانہ بنایا۔ مرنے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، جب کہ بعض لاشیں مسخ ہونے کے باعث قابل شناخت نہیں۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق 45 زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، جب کہ ابھی کئی شہری ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ امدادی کارروائیوں کے دوران بھی جنگی طیاروں کی وحشیانہ بم باری جاری رہی اور ملبے سے لاشیں اور زخمیوں کو نکالنے والا شہری دفاع کا رضاکار امیر البنی بھی شہید ہوگیا۔ شامی مبصر کے مطابق پیر کی صبح سے اسدی فوج کے جنگی طیاروںنے ادلب کے معرۃ النعمان، کفرسجنہ، معرزیتا، ارمنایا، بسیدا اور کفروما نامی شہروں اور قصبات پر 24 فضائی حملے کیے، جب کہ اس دوران روسی طیاروں نے معرۃ النعمان اور خان شیخون سمیت دیگر علاقوں پر 15 حملے کیے۔ شام کے شمال مغرب میں مزاحمت کاروں کے زیرانتظام علاقوں پر روسی مدد سے اسدی فوج کی چڑھائی میں 30 اپریل سے اب تک 185 بچوں اور 139 خواتین سمیت 733شہری شہید ہوچکے ہیں۔ جب کہ اس عرصے میں مارے گئے افراد کی مجموعی تعداد 2603 ہے، جن میں 918 اسدی فوجی اور ان کے حلیف جنگجو، جب کہ 974 حزب اختلاف کی مختلف تنظیموں کے مزاحمت کار شامل ہیں۔