حماس کے وفد کا دورۂ ایران‘ خامنہ ای سے ملاقات

60

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین قیام امن کے لیے امریکا کا تجویز کردہ نیا منصوبہ ایک خطرناک چال ہے، جس کا مقصد سرمائے کے ذریعے فلسطینیوں کی شناخت تباہ کرنا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی رہبر اعلیٰ کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی قوم کی شناخت ختم کرنے کا منصوبہ ہی دراصل وہ مرکزی پہلو ہے، جس کی وجہ سے اس منصوبے کی بھرپور مخالفت کی جانی چاہیے، کیوں کہ کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ سرمائے کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے فلسطینیوں کی پہچان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ علاوہ ازیں ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق فلسطینی تنظیم حماس کا ایک وفد اس وقت ایران کے دورے پر ہے، جس نے مزاحمتی تنظیم کے نائب سربراہ صالح العاروری کی سربراہی میں ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای سے ملاقات کی اور مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے اِرنا کے مطابق حماس کے وفد نے اتوار کے روز خامنہ ای کے مشیر کمال خرازی سے بھی ملاقات کی تھی، جس میں صالح العاروری کا کہنا تھا کہ حماس پر مالی، سیاسی اور فوجی پابندیوں کے باوجود فلسطینی مزاحمت صدی کی ڈیل نامی امریکی سازش کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ فلسطینی قوم اور حماس امریکا کے سازشی منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے نائب صدر کا کہنا تھا کہ صہیونی ریاست اور متکبر طاقتوں کے خلاف جنگ میں حماس اور ایران ایک ہی ٹریک پرچل رہے ہیں۔ واضح رہے کہ حماس کا اعلیٰ اختیاراتی وفد 2 روز قبل ایران کے طویل دورے پر تہران پہنچا تھا۔