امپورٹرز درآمدی اشیا کے سیلز ٹیکس ادا کرنے پر رضامند ہوگئے

180

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) تجارتی درآمدکنندگان اور تاجروں نے بیرون ملک سے درآمدی اشیاء پر لاگو سیلز ٹیکس کی ادائیگی کے لیے رضامندی کا اظہار کیا ہے، یہ فیصلہ ایف پی سی سی آئی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے کسٹم ایجنٹس کے وائس چیئرمین ارشد جمال اور کنوینر محمد ساجد کی زیر صدارت اجلاس میں ہوا۔ اس موقع پر تجویز دی گئی کہ یہ سیلز ٹیکس بندرگاہ پر درآمد کنندگان سے وصول کرنے کے بجائے درآمدی اشیا پرچون فروشوں کو فراہم کرنے کے وقت طے شدہ خوردہ قیمت کی بنیاد پر وصول کیے جائیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ارشد جمال کا کہنا تھا کہ وزارت تجارت کی جانب سے جاری ترمیمی سرکلر میں ابہام ہے اس سرکلر میں درآمد کنندگان کو سیلز ٹیکس بندرگاہ پر کنسائنمنٹ وصول کرنے کے وقت ادا کرنے کا پابندکیا گیا ہے ساتھ ہی درآمدی اشیاء کے ہر آئٹم پر قیمت فروخت درج کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ انہوں نے مزید کہاکہ درآمدی اشیا عالمی مارکیٹ سے خریدی جاتی ہیں اور اس کی قیت فروخت کا تعین بندرگاہ سے مال وصول کرنے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔ ایف پی سی سی آئی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے کنوینر محمد ساجد کا کہنا تھا کہ وزارت تجارت کے تازہ سرکلر کی وجہ سے درآمد کنندگان پریشان ہیں اور بندرگاہ سے کنسائنمنٹس وصول نہیں کررہے ہیں۔ اس موقع پر ارشد جمال نے انکشاف کیا ہے وزارت تجارت ، محکمہ کسٹم اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کے فقدان کے باعث سینکڑوںایسے کنسائنمنٹس پاکستان پہنچ چکے ہیں جو 4 جولائی کے آرڈر جاری ہونے سے پہلے منگوائے گئے تھے اور پری شپمنٹ کے تازہ شرائط پرپورا نہیں اترتے جن میں بڑی تعداد میں سولر پینل اور شمسی توانائی کے متعلقہ آلات شامل ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان اشیا کو سابقہ آرڈر کے تحت ریلیز کیاجائے۔ کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ارشد جمال نے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ درآمد کنندگان حکومت کے اقدامات کا خیر مقدم کرتی اور ہر طرح کے تعاون کے لیے تیار ہیں۔