سجاول میں خطرناک وائرس سے جانور مرنے لگے

92

سجاول (رپورٹ :حفیظ الرحمن میمن رحمانی) مویشیوں میں بیماری کی وجہ سے اموات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ لائیو اسٹاک عملے کو اطلاع کے باوجود کسی قسم کی دوائی اور علاج و ویکسین کا انتظام نہ ہوسکا ہے۔ آمڑا اسٹاپ کے علاقے میں گوٹھ حاجی جمعو سومرو، طیب اوٹھار گوٹھ اور قریبی علاقے میں خطرناک وائرس ایچ ایس گھنڈ سے کئی جانور ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ دیگر جگر، پھیپھڑوں کی بیماری، ساماڑو اور پولیو کی بیماری سے بھی مویشی متاثر ہونے کی اطلاع ہے۔ مقامی مویشی مالکان کا کہنا ہے کہ سجاول میں مویشی اسپتال پر اطلاع کے باوجود کوئی مدد نہیں کی جارہی ہے اور ایک اسسٹنٹ وہاں پر آنے والے مویشی مالکان کو جانور کی بیماری کے حالات پوچھ کر پرچی میں دوائی لکھ کر بازار سے خرید کر کھلانے کے لیے واپس بھیج دیتا ہے۔ اسپتال کی جانب سے علاقے میں ویکسینیشن اور فیلڈ ورک بند ہے، جبکہ سرکاری ادویات کو بھی فروخت کیا جارہا ہے۔ اسپتال کو نجی اسپتال کی طرح چلایا جارہا ہے۔ مویشی مالکان کا کہنا ہے کہ لائیو اسٹاک عملے کی جانب سے لاپروائی کی انتہا ہے اور اعلیٰ سطح پر شکایات پر بھی آفس میں بیٹھے جعلی رپورٹ بنا کر بھیج دی جاتی ہیں۔ ہلاک شدہ مویشیوں کو جعلی قرار دے کر فیلڈ ورک سے گریز کیا جارہا ہے۔ مویشی مالکان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطحی فیلڈ ٹیم تشکیل دے کر علاقے میں جانوروں کو ادویات اور ویکسینیشن کا انتظام کیا جائے تاکہ لاکھوں روپے کے نقصان سے بچ سکیں۔ واضح رہے کہ سجاول سے دودھ کی بڑی مقدار کراچی کو روانہ کی جاتی ہے، جبکہ بیماری کی وجہ سے مویشی مالکان اپنے جانور اونے پونے بیچ رہے ہیں، ایسے لاغر بیمار جانور مقامی سطح پر ذبح کرکے فروخت کرنے کے علاوہ کراچی بھی بھیجے جارہے ہیں۔ مویشی مالکان نے اپیل کی ہے کہ مویشیوں کے علاج کے لیے اقدامات اور فیلڈ میں مویشیوں کا علاج کرایا جائے۔