(پاکستان اور جماعت اسلامی (۱۹۵۱ء تا ۱۹۵۵ء) ( باب نہم

191

رپورٹ میں ص نمبر ۱۷۴ پر ۲ اور ۳؍ نومبر ۱۹۵۲ء کے گوجرانوالہ میں منعقد ہونے والے مجلس عمل کے زیراہتمام ایک جلسے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس میں جماعت اسلامی کے میاں طفیل محمد شریک ہوئے‘ جبکہ وہ شریک ہی نہ تھے۔ حقیقت یہ تھی کہ اس جلسے میں جمعیت علمائے اسلام کے مولوی طفیل احمد صاحب شریک ہوئے تھے‘ جن کو سی آئی ڈی کے رپورٹر نے بددیانتی کے ساتھ محض نام کی مشابہت کی وجہ سے میاں طفیل محمد بنادیا۔ اس کے علاوہ اور کئی غلط بیانیوں کی مثالیں اسی رپورٹ میں موجود ہیں‘ جن کو صحیح مان کر عدالتی رپور ٹ میں جوں کا تو ں نقل کیا گیا ہے۔
رپورٹ کا طرزِ بیان انتہائی غیر متوازن ہے۔ رپورٹ میں قادیانیوں کی کارروائیوں اور بیانات کا ذکر خال خال ہے‘ جبکہ ان کے مخالفین کی کارروائیوں سے رپورٹ کا کافی زیادہ حصہ بھرا ہوا ہے۔ جس سے ایک ناواقف ملکی اور غیر ملکی یہی تاثر لے گا کہ اس جھگڑے میں ساری زیادتی سالہا سال سے قادیانیوں کا مخالف فریق ہی کرتا آیا ہے اور ’’دوسرے مظلوم فریق‘‘ کا کوئی نمایاں حصہ نہیں ہے۔ رپورٹ میں اس مفروضے کو سچ گردانا گیا ہے‘ کہ علماء کے سر ظفر اللہ خان کو ہٹانے کے مطالبے سے امریکا اور دیگر پاکستان کو اناج کی ترسیل بند کردیں گے۔ سطحی تبصروں اور طنزیہ انداز بیان سے رپورٹ مالا مال ہے۔ ایک سنجیدہ مسئلہ کی بحث کے لیے صحیح اسلوب نہیں ہے اور نہ عدلیہ کے وقار کے مطابق ہے۔ اس رپورٹ میں ایک غلط بیانی تعلیمات اسلامی بورڈ کے غیر سرکاری اراکین کے بارے میں ہے کہ انہیں سرکاری ملازم ظاہر کیا گیا ہے‘ جبکہ وہ اعزازی ارکان تھے اورانہیں تنخواہ کے بجائے اور عارضی حق خدمت کے عوض اعزازیہ دیا جاتا تھا۔
رپورٹ کے ص ۲۰۱ پر یہ نیا انکشاف کیا گیا ہے کہ: ’’جو جماعتیں اپنے مطالبات کو مذہبی بنیادوں پرتسلیم کرانے کے لیے شور مچارہی ہیں‘ ان میں سے اہم ترین جماعتیں اسلامی ریاست کے تصور کی مخالف تھیں۔ جماعت اسلامی کے مولانا مودودیؒ تک یہ رائے رکھتے تھے کہ نئی مسلم ریاست
اگر کبھی وجود میں آئی بھی تو اس کی شکل ایک غیر دینی ریاست کی ہوگی‘‘۔ اس سے بڑا بہتان اور کوئی نہیں ہوسکتا کہ جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کبھی اسلامی ریاست کے تصور کے مخالف تھے‘ جو ان دو فاضل ججوں نے ان سے منسوب کردیا۔ رپورٹ حیران کن طور پر تین اہم متعلقہ معاملوں پر خاموش ہے۔ ایک: پولیس کی اندھا دھند اور بے تحاشا فائرنگ۔ دوم: ۴؍مارچ کو ایک پراسرارگاڑی کی عام مسلمانوں پر کھلے عام گولیاں برسانا جو سرکاری گاڑی نہ تھی‘ بلکہ عام مسلمانوں کے مطابق اس میںقادیانی سوار تھے۔ تیسرے: عام عدالتوں کی موجودگی میں مکمل مارشل لا نافذ کرنا اور فوجی عدالتیں قائم کرکے سزا دینا بالکل ناجائز تھا‘جس پر عام ماہرین قانون اس امر پر متفق تھے۔
حکومتوں میں تبدیلی
۶؍ مارچ ۱۹۵۳ء کو جو مارشل لا نافذ کیا گیا تھا‘ وہ ستر دن جاری رہا اور ۱۴؍مئی ۱۹۵۳ء کو اٹھالیا گیا۔ اس سے پہلے ۲۴ ؍مارچ ۱۹۵۳ء کو پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں ممتاز محمد دولتانہ مستعفی ہوگئے اور ملک فیروز خان نون کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنادیا گیا۔ ۱۷ ؍اپریل ۱۹۵۳ء کو گورنر جنرل نے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو برطرف کردیا اور ا ن کی کابینہ سے استعفے طلب کرلیے۔ امریکا میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرہ کو نیا وزیراعظم مقرر کردیا گیا‘ جو ان دنوں کراچی میں تھے۔
۳۰ ؍مئی ۱۹۵۴ء کو گورنر جنرل ملک غلام محمد نے مشرقی پاکستان کی اسمبلی توڑ کر گورنر راج نافذ کردیا۔ اسکندر مرزا کومشرقی پاکستان کا گورنر مقرر کیا گیا۔ اس سے پہلے وزیراعظم محمد علی بوگرہ جون ۱۹۵۳ء کے اوائل میں لندن گئے تھے‘ اور انہوں نے وہاں ایک انٹرویو میں یہ انکشاف کیاتھا کہ: ’’حکومت پاکستان ایک ایسے آئین کو پسند کرے گی‘ جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہ ہو گا‘ کیونکہ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے۔‘‘
(جاری ہے)