کراچی میں بارش 150 فیڈرز ٹرپ کرگئے،نصف سے زائد شہر تاریکی میں ڈوب گیا

331
کراچی: دن بھر شدید گرمی کے بعد بادل گھرآئے، چھوٹی تصویر میں رات گئے بارش ہورہی ہے
کراچی: دن بھر شدید گرمی کے بعد بادل گھرآئے، چھوٹی تصویر میں رات گئے بارش ہورہی ہے

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی میں ہلکی بارش، 150سے زائد فیڈر ٹرپ ،نصف سے زائد شہر میں تاریخی کاراج ، شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا،کے الیکٹرک کا شکایت درج کرنے سے انکار۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب کراچی کے کئی علاقوں میں بوندا باندی اور ہلکی بارش ہوئی ۔جس کے ساتھ ہی کے الیکٹرک کے ناقص نظام کی قلعی کھل گئی اور کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔ذرائع کے مطابق شہر میں ہونے والی بوندا باندی اور ہلکی بارش کے دوران مجموعی طور پر 150سے زائد فیڈر ٹرپ کر گئے۔ناظم آ باد،پاپوش،نارتھ ناظم آباد ، ملیر،کھوکھراپار،لانڈھی،بلدیہ ٹائون،لیاقت آباد،اورنگی ٹائون،کورنگی،گڈاپ،احسن آباد،گلشن معمار،گلشن اقبال ، سرجانی، خدا کی بستی ، صدر ، پی ای سی ایچ ایس ، طارق روڈ، شاہ فیصل کالونی ، لیاری ،گارڈن ،ٹاور،کیماڑی، گلستان جوہر ، ڈیفنس،اختر کالونی،کشمیر کالونی ، محمود آباد ، کلفٹن،سول لائنز،سلطان آباد،ایف بی ایریا،قائدآباد سمیت دیگر علاقعے اندھرے میں ڈوب گئے۔رات گئے تک کراچی کے کئی علاقوں میں بجلی بحال نہ ہو سکی ۔ ذرائع کے مطابق ناظم آ باد اورپاپوش کے مختلف علاقوں میں روزانہ6 سے8 گھنٹے لوڈ شیڈنگ معمول بنا ہوا ہے جب کہ رات کے اوقات میں 3،3 بار بھی بجلی بند کر دی جاتی ہے۔علاوہ ازیںبار بار عالمی ایوارڈ لینے کے دعویدار کے الیکٹرک کے مرکز شکایات پر ٹیلی فون کالوں کی قطاریں لگ گئیں اور ایک ایک صارف کا فون 15 منٹ کی ریکارڈنگ کے بعد اٹھایا گیا ،فون اٹینڈ کرنے کے بعد بھی بجلی کے تعطل کو ٹیکنیکل فالٹ کہہ کر شکایت درج کرنے سے انکار کردیا گیا۔ شہریوں نے عالمی ایوارڈ دینے والے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ مرکز شکایات پر شہریوں کے غصے بھرے فون کالوں کی ریکارڈنگ سن لیں تو شاید اس بے حس ادارے کو کسی عالمی تو کیا لوکل ادارے کے ایوارڈ کا بھی مستحق نہ سمجھا جائے۔دوسری جانب ملیر کھوکھراپار کے علاقے پاک کوثر ٹاؤن میں 24 گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہیں ہوسکی۔مکینوں کے مطابق اس علاقے میں بھی دیگر علاقوں کی طرح اتوار کی صبح 6 بجے بجلی معطل ہوئی تھی تاہم دیگر علاقوں میں 14 گھنٹے بعد رات کو 8 بجے بجلی بحال ہوگئی تھی لیکن پاک کوثر ٹاؤن میں پیر کی دوپہر تک بجلی بحال نہیں ہوئی تھی۔