عمران خان کے امریکا میں بڑے بڑے اعلانات

120

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ آج تک کبھی کسی کے سامنے جھکا ہوں اور نا اپنی قوم کو کبھی جھکنے دوں گا۔

واشنگٹن کے کیپیٹل ارینا میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ انشاء اللہ پاکستانیوں کو کبھی شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔

عمران خان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک خاص نعمت کے طور پر ہمیں پاکستان دیا، کسی کو بھی اندازہ نہیں کہ پاکستان اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ پاکستان کو تبدیل ہوتا دیکھیں گے اور ہر سال ملک اوپر جاتا رہےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں دو چیزیں ہوتی ہیں ہیں جو بادشاہت میں نہیں ہیں، جمہوریت میں میرٹ ہے جب کہ بادشاہت میں میرٹ نہیں ہوتی اور دنیا میں جن ممالک نے بھی ترقی کی میرٹ کی بنیاد پر کی، جس ملک میں میرٹ کم تھا وہ پیچھے رہ گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر ایک اچھا بادشاہ ہو تو ضروری نہیں ہے کہ اس کا بیٹا بھی اچھا ہو، ہندوستان سپر پاور ہوا کرتا تھا، ایک سے ایک مغل بادشاہ آیا، اورنگزیب کے بعد جو اس کے بچے آئے لیکن کسی میں بھی صلاحیت نہیں تھی جس کے باعث مغل دور ختم ہو گیا۔

عمران خان نے نواز شریف کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ کہتے ہیں کہ جیل کا کھانا اچھا نہیں ہے، گھر سے کھانا منگوانےکی اجازت دی جائے اور جیل میں اے سی اور ٹی وی کے بھی مزے اڑا رہے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ’ 80 فیصد پاکستانیوں کے پاس تو اے سی نہیں ہے جبکہ 60 فیصد کے پاس ٹی وی بھی نہیں، اگر یہ سہولیات آپ کو جیل میں مل رہی ہیں تو پھر نصف پاکستانی تو خوشی سے جیل میں جائیں گے، یہ سزا تو نہیں ہوئی، میںملک واپس جاتے ہی ان سے جیل میں اے سی اور ٹی وی کی سہولت واپس لوں گا‘۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مریم بی بی اس پر بہت شور مچائیں گی، میں ان سے یہ کہوں گا کہ وہ (نواز شریف) پیسہ واپس کردیں تو جیل سے باہر جاسکتے ہیں۔انہوں نے سابق صدر آصف زرداری پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جب بھی جیل میں جاتے ہیں تو بیمار ہوکر اسپتال منتقل ہوجاتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘بے نامی جائیدادیں اور منی لانڈرنگ کے ذریعے بھیجا گیا پیسہ واپس پاکستان لا رہے ہیں، ہم نے طاقتور لوگوں کا احتساب شروع کر دیا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جو لوگ اربوں کھربوں روپے باہر لے کر گئے ہیں اسے واپس لانے کے لیے متعلقہ ملکوں سے بات چیت شروع کر دی ہے’۔

وزیراعظم نے پاکستانی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے مجھے بہت عزت دی ہے اس کے لیے آپ لوگوں کا دل سے بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں، میں نے سوچا تھا کسی ہوٹل میں کچھ لوگوں کو بلا کر بات کی جائے گی لیکن اتنی بڑی تعداد میں آپ لوگوں سے بات ہو رہی ہے یہ ایک نئی تاریخ ہے۔