اپنے حصے کا کام

121

سدرہ نظامی

یہ ایک ننھی بچی کی سر گزشت ہے ۔ وہ کیا سوچتی ہے اور کہاں اُلجھتی ہے؟ اور اسے اپنی مشکل کا حل کہاں ملا؟ آئیے آپ بھی پڑھیے
ٹی وی کا اشتہار چلتا ہے نا!
بلیو بلینڈ والا!
چھوٹے میاں بڑے بے صبر
چھوٹے میاں بڑے، بڑے بے صبر
بس یہی حال معمار صاحبہ کا ہے
چھوٹی سی منی اسٹینڈ پر پائوں اٹکا اٹکا کر دروازہ کھولنے کی کوشش کرتی ہے اور ایسی کامیاب کوشش کہ میں حیران ہوں ۔
تین سالہ منی کی آپی نے امی کو بتایا
امی نے کہا۔
ماں ہو یا کوئی بھی سر پرست اسے بچے کے پیدا ہونے سے ہی ذمہ دار ہونا پڑتا ہے ، گھر والوں کو اب اس بات پر توجہ دینی ہے کہ اس کی ذہانت ، ہمت اور صلاحیت کو صحیح رُخ ملے ورنہ زنگ آلود اور بھٹکا دینے والی ہو جائے گی۔
اب امی نے آپی کی ڈیوٹی لگائی ۔ نہ صرف آپی بلکہ امی بھی اپنے معمولات میں منی کو ساتھ لگائے رکھتی تھیں اور گڑ بڑ کے وقت اس کی رہنمائی بھی کرتی تھیں ۔
وقت گزر رہا ہے اورمنی اب پانچ ، چھ سال کی ہو چکی ہے ۔
منی صاحبہ باغ میں جاتی ہیں ، روز شام کو اور صرف بھاگتی دوڑتی ہیں اور گھر آ جاتی ہیں مگر کسی کو کیا پتا؟ اکیلے میں آسمان سے باتیں بھی کرتی ہیں ہر چیز اس کی جگہ پر نظر آتی ہے ۔ کوئی پتا بھی اپنی جگہ سے ہٹا ہوا نہیں ہے ۔ سب قدرت کا کرشمہ ہے کہ ایک حساب کتاب سے زمین آسمان ، چرند ، پرند ، انسان سب چل رہے ہیں ، نہ زمین کا کوئی سرا ہے نہ کوئی چیز تھکتی ہے ۔ پتے پتے ، بوٹے بوٹے نے سمجھایا ۔ تاروں کی کھوج میں یہ راز چمک آیا اور پھر آپی نے امی کو بتایا کہ جب منی آپی سے باتیں کرتی ہے تو کبھی کبھی الجھن میں ڈال دیتی ہے ۔ انہوں نے امی سے کہا ۔
آپی۔ امی معمار کبھی کبھی الجھن میں ڈال دیتی ہے ۔
امی۔ وہ کیسے؟
آپی۔ پوچھتی ہے اب کیا کروں؟ الجھن ہے مجھے بالکل جن جنی والے سوالات
امی۔ تو پھر تم اسے الف سے انار ، ب سے بلی پڑھانے لگتی ہونگی۔
آپی۔ نہیں امی سوال ایسا خطرناک ہوتا ہے کہ بس ۔ جواب نہیںبن پڑتا ۔
امی ۔ مثلاً یہ کہ پاکستان کی ترقی کیسے ممکن ہے اور اس میں میں کیا کروں؟
آپی ۔ جی ایسے ہی کئی اور سوالات
امی ، وہ وہ سوالات تم سب مجھ سے بچپن میں کرتے تھے ،مگر وقت سب کچھ سمجھا دیتا ہے تم اسے کسی اورطرف متوجہ کر دیاکرو ۔
آپی ۔ اچھا ٹھیک ہے ۔
کچھ عرصہ اورگزرگیا ۔ گزرتے وقت میں منی نے بہت کچھ سیکھا ، آپی نے بھی سمجھایا ۔ زندگی کا ہر روز نیا روز تھا ، ہر لمحہ نیا اور ہر شے سوچنے سمجھنے کی دعوت دیتی تھی۔
’’یہ بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔ ‘‘ کیا اللہ نے انسان کو یونہی پیدا کر دیا ہے کہ وہ کھائے پیے اور مر جائے یا اپنی بنیادی ضروریات پوری کرے ، بس وہ تو سب کرسکتے ہیں۔پھر انسان میں تو ’’عقل ‘‘ہے ۔
وہ کچھ نیا کیوں نہ کرے ، میںScientistبنوں گی مگر ابھی کیا کروں؟
’’ میں یعنی منی اب ساتویں جماعت کی طالبعلم تھی۔‘‘
ایک بار جب ہم اسکول کا ہوم ورک کر رہے تھے ، آپی ایک مقالہ پڑھ رہی تھیں اچانک آپی نے اخبار رکھا اور کچھ سوچنے لگیں ۔ میں دیکھ رہی تھی ۔
’’سوچ کبھی کبھی الجھا دیتی ہے اور سرا ہاتھ نہیں آتا ۔ دکھ بیماری بھی سب کے ساتھ ہے ، یقیناً آپی بھی بیمار ہوتی ہیں، اف! مجھے تو نزلہ بخارمیں ہی جان نکلتی ہے‘‘۔
اتنی آفات ، اتنی مشکلات اور انسان کو تو شفقت میں پیدا کیا گیا ہے ، یہ تقریر مولانا صاحب کر رہے تھے کل ، مگر اللہ نے سب کو تھاما ہوا ہے ۔
سوچ کی اُلجھن کا حل ، القرآن اور الحدیث ہر مسئلہ کا حل، قرآن شفاء ہے اور احادیثبتاتی ہے کہ مومن کے لیے کوئی رنج کا مقام نہیں ، اگر وہ مصیبت میں صبر کرتا ہے تو اللہ سے قریب اور نعمت کا شکر ادا کرتا ہے تو بھی قریب ۔ وہ تو بس اللہ کو پاتا ہی رہتا ہے ۔ بس ایمان شرط ہے اور اللہ اس سے کہت ہے :
لا تحزن…غم نہ کرو ۔
سوچ کا دھارا ہے چلا جا رہا تھا اور آپی بھی کچھ بول نہیں رہی تھیں لہٰذا میں نے پوچھ ہی لیا۔
(منی) میں ۔ آپی کیا سوچ رہی ہیں آپ؟
آپی مسکرائیں ۔ آج بس میری مشکل آسان ہو گئی ۔
میںنے حیرت سے کہا: کیوں کیا آپ کوچ کرنے والی ہیں ۔ دنیا سے یہ ایسے وقتوں میں ہی تو کہتے ہیں )
آپی اور ہنسیں! نہیںمیں تو اب دنیا میں آئی ہوں ۔
میں( معمار) وہ کیسے؟
آپی: ایسے کہ آج تم نے وہ سوال نہیں کیا؟
معمار: کونسا؟
آپی: یہی کہ پاکستان کی ترقی میں میں کیا کروں؟
اوہ ہو! تو آپ کی سمجھ میں آ گیا شاید! اسی لیے کہا جارہا ہے سال کرنے کو، ہاں بھئی تو میری مشکل آسان کریں اور سب تقریریں تو کرتے ہیں یہ کوئی نہیںبتاتا کہ ابھی میں کیا کروں؟
آپی! جی تو جناب۔
اپنا کام مناسب وقت پر ، ترتیب اور احسان کے ساتھ کرنا
احسان یعنی؟ میں نے بات کاٹی
یعنی احسن ، اچھے طریقے سے کرنا ، اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے ، یہ سوچ کر کرنا مثلاً اگر طالب علم ہے تو اپنی حدود میں جہاں تک اس کی پہنچ ہے گناہوںسے بچے اور اپنا کام چاہے اسکول کا ہو یا گھر کا یا مدرسۃ القرآن کاصحیح طریقے سے کرے ، اپنا فرض جو بھی ہو اچھی طرح ادا کرے ،یہی طریقہ ہے زندگی میں ترقی کا ۔
ایک ایک اینٹ مل کر عمارت بنتی ہے ، اگر طالب علم گناہ کرے گا ، نقل کرے گا تو عمارت بوڑھی ہو جائے گی اور اینٹ اگر ایک بھی خراب ہو گی تو عمارت میں خرابی آئے گی۔ ہر فرد ایک اینٹ ہے در اصل
اگر گھاس کا ٹنے والا اونچی نیچی گھاس کاٹ دے تو اس طرح وہ ترقی میں رکاوٹ ڈالے گا نہ صرف بلکہ بے ایمانی تو گناہ ہیَ ایسے ہی ناپ تول میں کمی کرنے والا’’تخسیر المیزان‘‘یعنی اللہ کے بنائے ہوئے نظام میں گڑبڑ کرتا ہے تو عذاب لازمی ۔
چندا تم ابھی سے بہترین کردار والی تو بن سکتی ہو اور بہترین کردار ہی ترقی کا پیش خیمہ ہے ۔
مسلمانوں کا شاندار ماضی دیکھو سب نے کردار سے ہی جیتا ہے دنیا کا ملک ہی نہیں بلکہ اس کے ہر باشندہ کا دل تو کیا پایا۔
اپنے حصے کا کام بہترین طریقے سے کرنا ہے‘‘
O.K آپی میںنے کہا اور ایک گہری سانس کے ساتھ ہر قدم سنوارنے کا ارادہ کر لیا۔