سندھ حکومت 18 ویں ترمیم کیخلاف خود سازش کر رہی ہے، مصطفیٰ کمال

203
کراچی: پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال اوردیگررہنما باغ جناح میں جلسے کے موقع پر اظہار یکجہتی کررہے ہیں
کراچی: پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال اوردیگررہنما باغ جناح میں جلسے کے موقع پر اظہار یکجہتی کررہے ہیں

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفی کمال نے کہا ہے کہ 18ویں تر میم کا ہمیں کوئی فائدہ نہیں‘ اگر18 مرتبہ ترامیم کر چکے تو 19ویں مرتبہ بھی کرلیں‘سندھ حکومت 18ویں ترمیم کے خلاف خود سازش کررہی ہے‘کراچی کی منتخب بلدیاتی حکومت کوصوبائی حکومت نے غیرفعال کررکھا ہے، میئرسے اوپر وزیراعلیٰ ہونا چاہیے‘ وزارت بلدیات ختم کی جائے،وزیراعظم اور وزیراعلیٰ میر ی بات نہیں سنتاتو کیا میں اقوام متحدہ جائوں۔کراچی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی کمال نے اپنے مطالبات پیش کیے اور کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کا پیسہ ڈسٹرکٹ اور شہروں تک جانا چاہیے‘ وزیر بلدیات کا
عہدہ ختم کیاجائے اور میئر کو سارے اختیارات دیے جائیں‘ مقامی لوگوں کو سندھ پولیس میں نوکریاں دی جائیں‘ سفارشی ایس ایچ اوز لگائیں گے تو سٹریٹ کرائم کون روکے گا‘ ہائی ویز پر فوری طور پر ٹراما سینٹر بنائے جائیں‘ وزیراعظم نے پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی نظام رائج کر دیا‘ سندھ اور بلوچستان کے لوگوں کو بھی بلدیاتی نظام دیاجائے۔ مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ ایسا نظام بنایاجائے ٔ جس میں ہمارے ووٹ کی اہمیت ہو‘ میں صدارتی نظام کی بات نہیں کر رہا‘ ہمارے مسائل حل کیے جائیں ‘ ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں چاروں صوبوں کی سیٹیں برابر ہوں‘ سیٹیں برابر ہوں گی تو وزیراعظم ہمارے پاس بھی آئے گا۔چیئرمین پاک سرزمین پارٹی کا کہنا تھا کہ اسمبلیوں میں بیٹھنے والے سندھ کی بات نہیں کر رہے‘ خدارا سندھ کی طرف توجہ دیں یہ پاکستان کا حصہ ہے‘ سندھ حکومت اپنا قبلہ درست کرے‘یہ جلسہ ایوانوںمیںبیٹھے حکمرانوں کے خلاف ریفرنڈم ہے۔
پی ایس پی جلسہ