ٹنڈوالٰہیار،پولیس سرپرستی میں منشیات کی فروخت جاری

92

ٹنڈوالٰہیار(نمائندہ جسارت)ٹنڈوالٰہیارضلع میں منشیات پولیس سرپرستی میں سرعام فروخت ،نوجوان نسل منشیات کی عادی ہونے لگی،شہریوں کو تشویش،ضلع بھر میں چرس ، شراب ، افیم ، کرسٹل ، تریاق ، گٹکا ، مین پوری، ماوا اورسفینہ سمیت دیگر نشا آور اشیا بھاری نذرانوں کے عوض فروخت ہورہی ہے جس کی وجہ سے نوجوان نسل منشیات کے عادی ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی برائیوں کی جانب راغب ہونے لگے ہیں،سیاسی و سماجی حلقوں میں تشویش،منشیات کے خلاف منتخب نمائندے اور اعلیٰ عملدارنوٹس لیں اور کارروائی کرکے سماجی برائیوں کا خاتمہ کریں۔تفصیلات کے مطابق ٹنڈوالٰہیار ، چمبڑ، پیارو لونڈ،نصرپور،بکیرہ،عثمان شاہ ہوڑی،سنجر چانگ، خواجہ اسٹاپ،جھنڈو مری،مسن بڑی،کامارو شریف، جروار موری اورفاضل مانڈلی سمیت دیگردیہاتوں میں منشیات بھاری نذرانوںکے عوض سوداسلف کی طرح فروخت ہونے لگی۔ذرائع کے مطابق 40لاکھ روپے ماہانہ منتھلی ضلع ٹنڈوالٰہیار میں منشیات فروش دیتے ہیں، مین پوری، گٹکا اور ماوا بنانے کے مختلف علاقوں میں کارخانے موجود،منشیات کے استعمال کے باعث نوجوان نسل پر منفی اثرات کی وجہ سے گھروں میں جھگڑے،چوری،خود کشی سمیت نشے کی حالت میں روڈ حادثوں میں بھی اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ذہنی اور جسمانی بیماریوں کااصل سبب بھی منشیات کا استعمال ہے۔ٹنڈوالٰہیار ضلع کی سیاسی سماجی شخصیات بھی منشیات کے خلاف بھی آواز اٹھانے کے بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جبکہ منشیات وبائی بیماری کی طرح نوجوان نسل سمیت عورتوں اور معصوم بچوں میں بھی پھیل رہی ہے جوکہ معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔منشیات کا کاروبار کرنے والے اور ان کے آلہ کار لاکھ پتی سے کروڑ پتی بن گئے ہیں ۔شہریوں نے اعلیٰ عملداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ضلع ٹنڈوالٰہیار میں منشیات کی فروخت اور استعمال کو بند کراکر منشیات فروشوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرکے منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور نوجوان نسل اور معاشرے کو منشیات سے پاک کیا جائے۔