شاباش امریکا

152

حبیب الرحمن

خلیج میں امریکی جنگی بحری بیڑے کی موجودگی کی وجہ سے ایران اور امریکا کشیدگی میں دن دگنا رات چوگنا اضافہ ہوتا جارہا ہے جس سے خطے کے حالات کسی بھی وقت بہت خطرناک صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ چند ہفتے قبل ایران نے امریکا کے ایک ’’ڈرون‘‘ کو اس وقت مارگرایا تھا جب وہ آزاد سمندر کی حدود کراس کرتا ہوا ایران کی حدود میں داخل ہو کر یا تو کسی تنصیب کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا یا پھر کسی جاسوسی کے ارادے سے ایرانی حدود میں داخل ہوا تھا۔ یہ بات فرعون مزاج امریکا کی پیشانی پر کئی شکنیں ابھار گئی تھی اور فرعونِ اعظم نے ایران کے خلاف پہلے تو نہایت متکبرانہ پیغام میں کہا کہ ایران کو اس ’’جاہلانہ‘‘ حرکت کی سزا بھگتنا ہوگی پھر بزدل بھارت کی طرح بنا اعلان جنگ رات کی تاریکی میں ایران پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا کر خلیج میں موجود اپنی افواج کو حکم دیا کہ اس گستاخانہ حرکت پر ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے۔ حملے کی منصوبہ بندی مکمل ہو چکی تھی، ہوائی جہازوں میں ایندھن اور گولہ و بارود بھردیا گیا تھا۔ بحری جہاز تیار کردیے گئے تھے۔ جنگی کشتیاں اور سب میرین حرکت میں آچکی تھیں اور خلیج میں موجود افواج چاق و چوبند کھڑی تھیں کہ حملے سے ٹھیک دس منٹ قبل فرعون کا فون آیا کہ ایران پر فی الحال حملہ نہ کیا جائے۔ اب امریکا لاکھ دلیل دے کہ حملہ کی تمام تر منصوبہ بندی کے باوجود ہم نے (امریکا نے) ایران پر حملہ معصوم انسانوں کے زیاں کے ڈر سے نہیں کیا یا ہم نے ایران کو ایک اور موقع فراہم کیا کہ وہ ہمارے ہاتھ پر ’’بیعت‘‘ کر کے ’’دارالامان‘‘ میں داخل ہو جائے لیکن ہم جانتے ہیں کہ جس قوم کو اللہ پر اندھا اعتماد ہو اس کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ ہی لیتا ہے اور وہ ہر طاقتور گھمنڈی کے دل پر ایسی ہی ہیبت طاری کر دیا کرتا ہے ورنہ کہاں ایران اور کہا امریکا، دونوں میں پہاڑ اور گلہری کا فرق ہے۔
امریکا کے ڈرون کو گرائے کئی ہفتے گرز چکے ہیں لیکن تاحال امریکا بہادر کی یہ مجال نہیں ہو سکی کہ وہ اپنے زخم کا حساب ایران سے مانگ سکے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سانپ اگر زخمی ہوجائے تو اور بھی خوفناک ہوجاتا ہے لیکن تمام تر طاقت اور خوفناکیت کے باوجود اگر امریکا انتقام لینے یا جوابی کارروائی کرنے سے گریزاں ہے تو کوئی نہ کوئی ڈر اور خوف ایسا ضرور ہوگا جو اس کی راہ میں چٹان بنا ہوا ہوگا۔ خفت ایک ایسا احساس ہے جو انسان کو اس کے اپنے اندر سے بے چین کیے رکھتا ہے۔ کوئی اگر اس گمان میں ہے کہ امریکا خلیج میں موجود ہونے کے باوجود اور ایرانی سرحدوں کے نہایت قریب ہوتے ہوئے بھی ایران کے خلاف کچھ نہ کر پارہا ہو تو اس کے اندر جو آگ بھڑک رہی ہوگی وہ اس کے وجود کو جھلسائے نہیں دے رہی ہوگی تو اس گمان کو سلام ہی کیا جاسکتا ہے۔ شاید اسی خفت کا نتیجہ ہے کہ اب وہ پوری دنیا کے سامنے شور مچا رہا ہے کہ اس نے ایران کا ایک ’’ڈرون‘‘ جو اس کے جنگی ہدف سے صرف چند سو گز ہی دور رہ گیا تھا، اس نے اسے مار گرایا ہے۔ گویا ایک ڈرون کے بدلے میں ایک ڈرون گراکر جیسے اس نے دنیا کو یہ بتایا کہ جو خفت اسے اپنے ڈرون کے مار گرائے جانے کی صورت میں چند ہفتے قبل اٹھانا پڑی تھی اب اس کا بدلہ برابر ہو چکا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا، میں سب کو آبنائے ہرمز میں ہونے والے واقعے کے بارے میں بتاتا چلوں جس میں امریکی یو ایس ایس باکسر جنگی جہاز نے شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی ڈرون نے دفاعی کارروائی کی ہے جو جہاز سے تقریباً ایک ہزار گز کے فاصلے پر پہنچ گیا تھا۔ متعدد بار امریکا کی جانب سے تنبیہ کی گئی لیکن پھر جہاز اور اس کے عملے کی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر ڈرون کو مار گرایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایران کی جانب سے بین الاقوامی پانیوں میں جاری اشتعال انگیز کارروائیوں کی حالیہ مثال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ وہ اپنے مفادات، لوگوں اور دلچسپیوں کا دفاع کرے۔
امریکا کہ یہ کارروائی ممکن ہے کہ دنیا میں اس کا سربلند کردے کیونکہ طاقت کے آگے تو ویسے ہی سب سجدہ ریز ہوتے ہیں لیکن کیا اس کارروائی سے ایران دباؤ میں آسکتا ہے؟، یہ ہے وہ اصل نقطہ جس پر امریکا ہی کو نہیں، دنیا کے ہر ملک کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ایران نے امریکی ڈرون کو اپنی سمندری حدود میں مار گرایا تھا، خیال یہی کیا جارہا تھا کہ امریکا کی جانب سے ایران کو شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنگی انداز جنون سے تو ایران اب تک محفوظ ہے لیکن ایران پر لگائی جانے والی اور بہت ساری پابندیاں ایران کے لیے مشکلات ضرور پیدا کر رہی ہوں گی لیکن جب قومیں کوئی اٹل فیصلہ کر لیتی ہیں تو کسی بھی قسم کی کوئی مشکل ان کے لیے مشکل نہیں رہتی۔ امریکی ڈرون گرانے کے بعد ایران کو جن مزید پابندیوں کا سامنا ہے اس قسم کی پابندیوں کا سامنا ایران کو کئی دہائیوں سے ہے لیکن ایران کا نہ جھکنے کا عزم آج تک متزلزل نہ ہو سکا۔ حالیہ امریکی پابندیوں کے باوجود بھی ایران اسی طرح جما کھڑا ہے اور یہ بات بھی زخمی سانپ (امریکا) کے لیے نہایت کبیدگی کا سبب بنی ہوئی ہوگی۔
ادھر امریکا کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کا ڈرون مار گرایا ہے، ایران نے اس قسم کی کسی بھی کارروائی کا یا ایرانی ڈرون گرائے جانے سے انکار کیا ہے۔ جب ایران نے امریکی ڈرون گرایا تھا تو یقینا ایران کے پاس ناقابل تردید شواہد رہے ہوںگے لیکن کیا امریکا کے پاس بھی ایسے ہی ناقابل تردید شواہد ہیں؟۔ اس سلسلے میں ٹرمپ کی خاموشی ابہام ضرور پیدا کرتی ہے اور دنیا منتظر ہے کہ امریکا کا صدر ایران کے ڈرون گرانے کے دعوے کو سچ ثابت کرے۔ امریکا کے خلیج میں آنے کا مقصد صرف ایران کو قابو میں کرنا، ایران کی ایٹمی صلاحیت کو حدود میں رکھنا اور ایران کو اپنے آگے جھک جانے پر مجبور کرنے کے سوا کچھ اور نہیں تھا۔ اگر ان باتوں کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ امریکا اپنی اس پالیسی میں 100 فی صد ناکام ہو چکا ہے۔امریکا کے دل میں کیا پوشیدہ ہے، یہ جان لینا کوئی آسان کام نہیں۔ ممکن ہے کہ ایران کو دبانا ایک بہانہ ہی رہا ہو، اصل مقاصد کچھ اور ہی ہوں۔ دنیا جانتی ہے کہ امریکا افغانستان میں بہت ہی بری طرح پھنسا ہوا ہے اور وہ وہاں سے اپنی عزت و آبرو اور جان و مال کو خیریت کے ساتھ نکال لیجانے کی فکر میں مبتلا ہے۔ افغانستان سے انخلا کا معاملہ سانپ کی منہ میں چھپکلی کی طرح بن کر رہ گیا ہے جس کا اُگلنا یا نگلنا، دونوں ہی گلے پڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں یہ گمان کرنا کہ امریکی بحری بیڑا صرف ایران کے خلاف عزائم لیکر خلیج میں داخل ہوا ہے، نادانی ہی ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ آخر یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
پاکستان کے موجودہ حکمران بھی امریکا کی ہی مخالفت پر عوام میں مشہور ہوئے تھے۔ ایک سال تک ان کی بھی بھرپور کوشش رہی تھی کہ وہ چین اور روس کے سہارے پاکستان کی نیا کو پار لگا سکیں لیکن لگتا ہے کہ امریکا کا جاہ و جلال ان حکمرانوں کو بھی یوٹرن لینے پر مجبور کر گیا ہے جس کی تازہ ترین دلیل حکمرانوں کا دورہ امریکا ہے جو اسی ہفتے ہونے جارہا ہے۔ ان تمام حقائق کو سامنے رکھا جائے تو خلیج میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی، ایران پر لگائی جانے والی اقتصادی پابندیاں، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی کڑی شرائط، افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا اور آخر میں پاکستانی حکمرانوں کے سروں کا امریکا کے آگے جھک جانے پر مجبور ہوجانا، سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں اور اس بات کا اعتراف کہ دنیا کا کوئی بھی ملک نہ تو مسلمانوں کی ہمدردی کرنے کے لیے تیار ہے اور نہ ہی اس پوزیشن میں ہے کہ وہ امریکا کے مقابل ڈٹ کر کھڑا ہو سکے۔ اس لیے یہ کہنا کہ ’’شاباش امریکا‘‘، فی زمانہ اتنا غلط بھی نہیں۔