ڈیگاری کی کان میں حادثہ

86

قاسم جمال

ڈیگاری بلوچستان میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس کے دھماکے اور اس کے نتیجے میں آٹھ کان کنوں کی ہلاکتوں کا افسوناک حادثہ ہوا ہے۔ یہ کوئی نیا حادثہ نہیں اس سے قبل بھی اس طرح کے حادثات معمول کا حصہ ہیں۔ ایک دو دن تک اخبارات اور سوشل میڈیا چیختے چلاتے رہتے ہیں اور پھر زندگی کی گاڑی رواں دواں ہوجاتی ہے۔ کان کا ملازم جو انتہائی کم اجرت میں اپنی جان جوکھم میں ڈال کر اپنی بیوی بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کماتا ہے۔ اسے اس کام کی اجرت دو ہزار روپے سے لیکر آٹھ ہزار تک دی جاتی ہے اور انتہائی کم اجرت میں یہ مظلوم طبقہ اپنی جان دائو پر لگا کر کام کرتے ہیں۔ ہر سال دو سو سے زائد کان کن کوئلے کی کان میں کوئلہ بن جاتے ہیں اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہے۔ کان کنوں کے لیے نہ ہی فرسٹ ایڈ کا کوئی انتظام ہے ان کے لیے نہ ماسک ہیں نہ ہی آکسیجن سلینڈر اور نہ ہی کوئی ایمبولینس سروس کی سہولت۔
ڈیگاری کی کان میں پھنسے کان کنوں کو نکالنے والے ریسکو کارکنان کی حالت بھی نازک ہے اور مائنز میں کام کرنے والے کارکنان کے ساتھ بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ مائینز میں کام کرنے والوں کے تحفظ کا کوئی انتظام نہیں ہے اور ان کی کوئی انشورنس ہے اور نہ سیکورٹی نہ میڈیکل۔ حکومت، لیبر اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ان محنت کشوں کی جان ومال کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اگر کسی حادثے میں کوئی ملازم جاں
بحق ہوجائے تو اس غریب کے ورثاء کے پاس کفن دفن کے بھی پیسے نہیں ہوتے، لوگوں سے مانگ تانگ کر ان کی تدفین کی جاتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کان کنوں کی جانوں کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کرے اور کان کے مالکان اور کمپنی کو پابند کیا جائے کہ کان کنوں کو سیفٹی آلات ماسک، آکسیجن سلینڈر ودیگر آلات اور ایمبولینس کی سہولت فراہم کریں اور کان کے محنت کشوں کی جانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ کسی بھی قسم کے حادثے یا ناخوشگوار واقعہ پر فوری طور پر بچائو کے انتظامات کیے جائیں اور زخمیوں کو فوری طور پر بڑے اسپتال منتقل کر کے مکمل علاج کیا جائے۔ ہلاک شدگان کو کم از کم دس لاکھ کی امداد اور اس کے بیوی بچوں کی مکمل کفالت کا انتظام کیا جائے۔ تمام ملازمین کی کم از کم اجرت سرکاری سطح والی مقرر کی جائے اور ان کی انشورنس اور میڈیکل کی سہولت کا بھی انتظام کیا جائے۔ کوئٹہ میں ایک جدید تیرین برنس اسپتال قائم کیا جائے اور اس اسپتال میں کان میں ہونے والے حادثات اور مریضوں کے مکمل علاج معالجے کا انتظام ہو۔ حکومت تمام مائینز سیکٹر میں سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروائے اور اگر کسی بھی جگہ پر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کی جارہی ہو تو اس کا لائنس منسوخ کیا جائے اور کسی بھی قسم کی کوتاہی ثابت ہونے پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور کان کنوں کی جان ومال کی حفاظت کی جائے۔ وزارت مائنز کے افسران بھی ٹھنڈے ٹھنڈے کمروں سے باہر نکلیں اورکاغذی اقدامات کے بجائے عملی طور پرکان کنوں کی حالت زار کو بہتر بنانے اور ان کی زندگیوں کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ اس طرح کے افسوس ناک حادثات کی روک تھام کی جاسکے۔