نتیجہ کیا برآمد ہوا

157

عمران خان کا انتخابات سے قبل نعرہ بدعنوان افراد کو پکڑ کر جیل میں ڈالنا اور ان سے عوام کی لوٹی گئی ہزاروں ارب روپے کی واپسی کا تھا ۔ اقتدار میں آنے کے بعد بھی عمران خان مسلسل یہی جملہ دہراتے ہیں کہ سفارش اور دھمکیاں نہیں چلیں گی اور احتساب جاری رہے گا ۔سوال یہ ہے کہ اب تک کتنے بدعنوان افراد کو سزائیں دی گئیں اور کتنی لوٹی گئی رقم برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائی گئی ۔ یہ ضرور ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف کارروائی جاری ہے مگر عمران خان کی حکومت نے جتنے بھی کیس ان لوگوں کے خلاف بنائے ہیں وہ اتنے بودے ہیں کہ عدالت میں اب تک ایک الزم بھی ثابت نہیں کیا جاسکا ۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب تک لوٹی گئی ایک پھوٹی کوڑی بھی برآمد نہیں کی جاسکی ۔ اس سے ان گرفتار شدگان کے حوصلے اور بلند ہوگئے ہیں اور وہ برملا سرکار کی رٹ کو چیلینج کرنے لگے ہیں ۔ جھنجھلا کر عمران خان کبھی سعودی عرب کی مثال پیش کرتے ہیں کہ جس طرح سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بااثر افراد کوحراست میں لے کر وصولی کی تھی ، بالکل اسی طرح پاکستان میں بھی کی جائے گی اور کبھی عمران خان چین کی مثال پیش کرتے ہیں کہ چین کی طرح 450 وزراء کو جیل میں ڈالنا ہوگا ۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان سابق کرپٹ وزراء کو کس طرح سے جیل میں ڈال سکتے ہیں ۔ ان کی پوری ٹیم ہی نیب زدہ سابق وزراء پر مشتمل ہے ۔ اگر عمران خان نے سابق وزراء کو جیل میں ڈالنے کا عمل شروع کیا تو ان کی پوری کابینہ ہی کوٹ لکھپت اور اڈیالہ جیل میں آرام کررہی ہوگی ۔ عمران خان کو اب تسلیم کرلینا چاہیے کہ ان کا وژن کچھ بھی رہا ہو مگر وہ ایک ناکام وزیر اعظم ہیں جس کی اپنی کوئی ٹیم نہیں ہے ۔ ان کی موجودہ ٹیم کی لوٹ مار کی سابق داستانوں کے ساتھ ساتھ اب تازہ کہانیاں بھی منظر عام پرآنی شروع ہوگئی ہیں ۔ موجودہ حکومت کی سب سے بڑی ناکامی معاشی محاذ پر شکست ہے ۔ عمران خان جب سے برسراقتدار آئے ہیں ملک معاشی ابتری کا شکار ہے اور اس میں روز اضافہ ہی ہورہا ہے ۔ملک میں معاشی ابتری کی وجہ صرف اور صرف عمران خان کی ٹیم کی نااہلی یا اپنے آقا آئی ایم ایف کے احکامات کی بجاآوری ہے ۔ عمران خان یہ تو بتاتے ہیں کہ گزشتہ ادوار میں کتنا قرض لیا گیا مگر وہ یہ نہیں بتاتے کہ صرف روپے کی بے قدری کے ایک عمرانی فیصلے کی بناء پر کس طرح راتوں رات کتنے سو ارب روپے کا قرض پاکستانی قوم پر چڑھ گیا ۔ عمران خان کے پاس محض ایک رٹایا ہوا جملہ ہے کہ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام میں سے صرف چند لاکھ افراد ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں اور بقیہ عوام ٹیکس چور ہیں ۔ وہ یہ نہیں بتاتے کہ جن چند لاکھ ٹیکس ادا کرنے والوں کی وہ بات کررہے ہیں وہ انکم ٹیکس ادا کرنے والے ہیں۔ ویسے ٹیکس تو کسی دور افتادہ پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھا ایک چرواہا اور دریا کے بیچ میں کشتی کھینے والا ماہی گیر بھی ادا کرتا ہے ۔ یہ بات اب زبان زد عام ہوچکی ہے کہ گزشتہ ادوار میں لوٹ مار سے پاکستان کو اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا عمران خان کی معاشی پالیسیوں نے پہنچایا ہے ۔ عمران خان کی ایک اور وجہ شہرت ان کا یوٹرن لینا بھی ہے ۔ اب تک عمران خان جتنے بھی دعوے کرتے رہے ہیں ، ان پر انہوں نے یوٹرن بھی لیا ہے اور ہر یوٹرن کا دفاع بھی کیا ہے ۔ کچھ یہی صورتحال عمران خان کی بدعنوان وزراء کو جیل میں ڈالنے اور ان کے حلق سے لوٹی گئی رقم کی برآمدگی کی ہے ۔ جب حفیظ شیخ زرداری دور حکومت میں نامناسب طریقے سے قرض لینے کی بات کررہے ہوں اورپرانی چال فردوس عاشق اعوان پیپلزپارٹی پر تنقید کررہی ہوں تو اس پر ہنسی بھی نہیں آتی ۔ کتنی ڈھٹائی سے یہ لوگ اپنے ہی کرتوتوں پر تبصرہ کررہے ہوتے ہیں ۔ عمران خان میں نہ تو بلا امتیاز اور بے لاگ احتساب کرنے کی ہمت ہے اور نہ ہی صلاحیت ۔ بہتر ہوگا کہ عمران خان کو سلیکٹ کرنے والے ہی بلاامتیاز اور بے لاگ احتساب کو اپنا ہدف مقرر کرلیں ۔ اسی سے ملک میں بہتری آنے کا امکان ہے ۔ اگراحتساب کا آغاز موجودہ معاشی ٹیم ہی سے کیا جائے تو ملک کے مفاد میں بہتر ہوگا ۔حفیظ شیخ اور رضا باقر کو فوری طور پر فارغ کرکے ان کا احتساب کیا جائے کہ انہوں نے پاکستان کی معاشی بنیادوں کو اپنے آقا آئی ایم ایف کے احکامات پر کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے تو اس سے دیگر لوگوں تک بھی ایک مثبت پیغام پہنچے گا ۔