ڈی آئی خان میں دہشتگردی 6 پولیس اہلکاروں سمیت10 شہید

108
ڈیرہ اسماعیل خان: اسپتال کے بیرونی دروازے پر دھماکے میں تباہ شدہ موٹرسائیکلیں، چھوٹی تصویر اسپتال کے اندر کی ہے
ڈیرہ اسماعیل خان: اسپتال کے بیرونی دروازے پر دھماکے میں تباہ شدہ موٹرسائیکلیں، چھوٹی تصویر اسپتال کے اندر کی ہے

ڈی آئی خان /اسلام آباد/کراچی (اسٹاف رپورٹر+خبر ایجنسیاں) ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے واقعات میں 6پولیس اہلکاروں سمیت 10افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے ،حملوں کی ذمے داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کرلی۔تفصیلات کے مطابق درابن روڈ کوٹلہ سیداں چیک پوسٹ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ڈیوٹی پر مامور 2 پولیس اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ریسکیو 1122 کی میڈیکل ٹیم نے لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) سلیم ریاض کے مطابق صبح 7 بجکر 45 منٹ پر 4 موٹر سائیکلوں پر نامعلوم مسلح افراد نے چیک پوسٹ پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد زخمیوں کو جس اسپتال لے جایا گیا تھا وہاں حملہ کردیا گیا جس کے نتیجے میں 2 مزید پولیس اہلکاروں سمیت 3 شہری شہید ہوگئے تھے۔تاہم اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مزید 2 پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد مجموعی طور پر شہید افراد کی تعداد 9 ہوگئی۔ڈی پی او کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ خودکش تھا جس میں ایک خاتون کے ملوث ہونے کا امکان ہے جبکہ یہ حملہ سوچی سمجھی سازش تھی۔انہوں نے مزید بتایا کہ حملے میں 6 سے 7 کلو بارودی مواد کا استعمال کیا گیا تھا، پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔دھماکے کے بعد اسپتال کے قریب داخلی اور خارجی راستے بند کر کے شہر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکا ڈی ایچ کیو اسپتال کے ٹراما سینٹر کے مرکزی گیٹ پر ہوا اور زخمی ہونے والے افراد میں پولیس اہلکاروں سمیت بچے بھی شامل ہیں جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔واقعے میں شدید زخمی ہونے والے ایک اہلکار کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کیا گیا۔ادھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے اسے اپنے ایک ساتھی کی ہلاکت کا بدلہ قرار دیا۔ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق اس حملے میں اس کے ایس ٹی ایف اور ٹی ایس جی نامی ذیلی دہشت گرد ٹیموں نے کی۔کالعدم تنظیم نے ڈیرہ اسماعیل میں ہونے والے دہشت گرد حملے کو اپنے ایک ساتھی کی ہلاکت کا بدلہ قرار دیا۔دوسری جانب فائرنگ اورخود کش دھماکے میں شہید 4 اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کی گئی جس میں کمشنر جاوید مروت سمیت اسٹیشن کمانڈر عمران سرتاج، پولیس افسران اور شہریوں نے شرکت کی۔نماز جنازہ کے بعد پولیس شہدا کو سلامی پیش کی گئی اور پھر میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ،وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔صدر عارف علوی نے اپنے بیان میںدہشت گرد حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کی بلندی درجات اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان نے ڈی آئی خان میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی جبکہ اسے مذموم کارروائی قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ شہیدوں کی یہ قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، دہشت گردی ایک ناسور ہے جس کا صفایا کرکے ہی دم لیں گے کیونکہ اس طرح کی کارروائی ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وہ شہدا کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، کوئی بھی مذہب معصوم اور بے گناہ لوگوں پر حملے کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف نے بھی ڈیرہ اسماعیل خان حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے تمام زخمیوں کو بہترین اور بروقت علاج فراہم کرنے کی بھی ہدایات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ تمام ملحقہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گرد حملوں کے دوران پولیس اہلکاروں سمیت معصوم شہریوں کی شہادتوں پر افسوس اور شہدا کے لواحقین سے ہمدردی و یکجہتی کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال عام انتخابات سے 3 روز قبل 22 جولائی کو کولاچی میں خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر اکرام اللہ گنڈا پور اپنے محافظ اور ڈرائیور کے ساتھ شہید ہوگئے تھے۔
دھماکے، فائرنگ

ڈیر ہ اسماعیل خان: فائرنگ و خودکش حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروںکی نمازجنازہ ادا کی جارہی ہیں