آئی ایم ایف کی ٹیکس تجاویز پر حکومت کو کوئی اختلاف نہیں،دونوں ایک پیج پر ہیں،شبر زیدی

52

اسلام آباد (اے پی پی) چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سید محمد شبر زیدی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اور آئی ایم ایف ایک ہی صفحے پر ہیں ،آئی ایم ایف کی طرف سے تجویز کردہ اقدامات بالخصوص ٹیکس کے حوالے سے اقدامات پر حکومت کی طرف سے کوئی اختلاف نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے ز یرِ اہتمام پاکستان اکانومی اور آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے ایک پالیسی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرسابق وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر، پاکستان میں تعینات آئی ایم ایف کی نمائندہ ماریا ٹریسا دبان اور ایس ڈی پی آئی سے ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ شبر زیدی نے کہا کہ ٹیکس ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے معاشرے میں دولت کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں جن میں سے صرف 60 ہزار ہی ٹیکس دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بجٹ میں کیے جانے والے اقدامات پاکستان کی تاریخ میں مثالی ہیں جو پرانے طور طریقوں کو مکمل طور پر بدل دیں گے،اس کے علاوہ حکومت ٹیکس کے نظام میں آٹومیشن کے ذریعے کرپشن پر قابو پائے گی۔ سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ معاشی استحکام ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے ساتھ ہر شعبے میں بھرپور اصلاحات سے ملک معاشی بحران سے جلد نکل آئے گا۔ آئی ایم ایف کے پروگرام پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر شمشاد نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میںتاخیر سے جانے کی وجہ سے بے یقینی میں اضافہ ہواجس سے معیشت پر بُرا اثر پڑا۔ ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے سوشل پروٹیکشن کے پروگرام کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت معاشرے کے غریب طبقے پر بوجھ کو کم کرنے کے لیے براہ راست ٹیکس پر توجہ دے۔ پاکستان میں تعینات آئی ایم ایف کی نمائندہ ماریا ٹریسا دبان نے کہا کہ آئی ایم ایف کے 6 ارب ڈالر کے پروگرام کا مقصد پاکستان کے معاشی اصلاحاتی پروگرام کو سپورٹ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درمیانی مدت میں آئی ایم ایف پیکج کا ہد ف مضبوط ٹیکس کا نظام ، ایک آزاد مرکزی بینک، مارکیٹ بیس ایکسچینج ریٹ کا نظام اور قرضوں کی سسٹین ایبلٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان توانائی کے شعبے کو بہتر بنائے ، ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر عمل درآمد اور اینٹی کرپشن کے اداروں کو مضبوط کیا جائے ۔