ٹرمپ قادیانی رہنماکی ملاقات منصوبے کے تحت ہوئی،موجودہ حکمران بھی امریکا کے آگے جھکے ہورہے ہیں،سراج الحق

175
کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان سے خطاب کررہے ہیں
کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان سے خطاب کررہے ہیں

کراچی (اسٹا ف رپورٹر)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت آئی نہیں بلکہ لائی گئی ہے اور جو لوگ اس حکومت کو لائے ہیں وہ بھی پریشان ہیں۔ایک سال کے اندر تو نومولود بچہ بھی چلنے کے قابل ہوجاتا ہے لیکن یہ حکومت ابھی تک اپنے سہارے پر چلنے کے قابل تک نہیں ہوئی ہے۔موجودہ حکومتیں نالائقوں اور نااہلوں کی حکومت ہے، وزیر اعظم عمران خان امریکا پہنچ چکے ہیں، ان کو امریکا جانے سے قبل عوام کو اپنی پالیسی کے بارے میں اعتماد میں لینا چاہیے تھا اور بتانا چاہیے تھا کہ ان کا امریکا میں ایجنڈا کیا ہے۔آج ملک کے اندر قادیانوں کے لیے جگہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔امریکی صدر ٹرمپ سے قادیانی رہنما سے ملاقات اچانک نہیں ہوئی ایک منصوبے کے تحت ہوئی ہے،اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوان حقیقی معنوں میں تحریک اسلامی کا دست و بازو ہیں، اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوان اسلامی وخوشحال اور ایک روشن و تعلیم یافتہ پاکستان بنانے کا عزم اور جدوجہد کریں،فتح اور کامیابی ضرور ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو رضوان مسجد فیڈرل بی ایریا میں اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے کارکنان کی دوروزہ ’’تربیت گاہ‘‘ کے پہلے دن خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرامیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ محمد حسین محنتی، نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، سیکرٹری کراچی عبد الوہاب، ناظم اسلامی جمعیت طلبہ کراچی عمر خان ودیگر بھی موجود تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ موجودہ پی ٹی آئی حکومت پرویز مشرف، پیپلزپارٹی ار مسلم لیگ کی حکومت سے کوئی مختلف نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کے قرضوں کے بارے میں ان کی پالیسی وہی ہے وہ بھی امریکا کے سامنے جھکنے والے تھے اور یہ بھی امریکا کے سامنے جھکنے والے ہیں۔انہوں نے کہاکہ موجودہ اور سابقہ حکومتوں میں کوئی فرق نہیں ہے، ان کی معاشی،سیاسی، تعلیمی اور دیگرپالیسیاں اور طرز عمل ماضی کی حکومتوں کی طرح ہی ہے۔ماضی میں عوام پریشان اور بد حال تھے اور غریب عوام آج بھی بدحال اور پریشان ہیں اور موجودہ حکومت نے تو عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کردیا ہے اور عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے رہنماؤں کی رہائی کی باتیں کرتے ہیں لیکن ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک کے عوام کو رہا کرو،اپوزیشن جماعتوں کا مسئلہ ان کی قیادتوں کی رہائی ہے، ہم عوام کے مسائل کی بات کرتے ہیں اور عوام کے اصل اور حقیقی ترجمان ہی اسی لیے ہمارے اور اپوزیشن کے بیانیے میں فرق ہے۔انہوں نے کہاکہ اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوان حقیقی معنوں میں تحریک اسلامی کا دست و بازو ہیں اور ان نوجوانوں نے دین اسلام کو شعوری طور پر اختیار کیا ہے،اللہ اور اس کے رسول ؐکی محبت اور دین کی دعوت کی بنیاد پر قائم اجتماعیت سے وابستہ ہیں،یہ نوجوان صرف نعرے لگانے والے نہیں بلکہ دلیل کے ساتھ بات کرنے والے داعی الی اللہ اور مجاہد فی سبیل اللہ ہیں،دلیل اور کردار کی قوت سے ہی دنیا کو مسخر کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسانوں کی رہنمائی اور ہدایات کے لیے انبیاکرام اتارے اور نبی کریمؐ خاتم النبیین اور رحمت للعالمین بن کر آئے اور انسانوں کو توحید اور رب کی بندگی کی دعوت دی،اللہ کے دین کو قائم اور نافذ کیا۔نبی کریمؐ کے بعد یہ ذمے داری پوری امت مسلمہ پر عائد ہوتی ہے اور ہم اور آہ خوش قسمت ہیں جو اقامت دین اور تحریک کا حصہ ہیں۔تحریک اور جدوجہد جاری رہے گی،ہمیں اس تحریک سے زندگی کے آخری سانس تک وابستہ رہنا ہے اور عوام الناس کو بھی اس تحریک اور جدوجہد میں شامل کرنا ہے،ایک داعی الی اللہ کی حیثیت سے اللہ کے دین کی دعوت عام کرنا ہے۔مصر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک صدر کو عوام نے منتخب کیا لیکن امریکا اور اس کے حواریوں نے عوام کے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا،مرسی کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں اور بالآخر انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔دنیا بھر کے سات براعظموں میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی، ان کی زندگی کا مقصد اور نصب العین صرف اللہ کے دین کی سربلندی تھا اور انہوں نے زندگی کی آخری سانس تک جدوجہد جاری رکھی۔اللہ کے دین کی سربلندی اور رضائے الہیٰ کا حصول ہی ہمارا نصب العین اورمقصد ہے اور یہ پوری زندگی کا نصب العین ہے۔انہوں نے کہاکہ اسلامی جمعیت طلبہ کو ایسا کردار اپنانا چاہیئے جن پر والدین،اساتذہ اور ان کے اہل محلہ بھی فخر کریں، جمعیت کے نوجوانوں کو اقبال کے شاہینوں کا کردار ادا کرنا ہے،ملک کی سیاسی، معاشی اور تعلیمی صورتحال جو ہر پہلو سے مایوس کن ہے اس صورتحال میں اسلامی جمعیت طلبہ پر بھی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے۔جمعیت کے نوجوانوں کو تعلیمی اداروں میں اور تعلیمی اداروں کے باہر نوجوانوں کو بیدار کرنا ہے۔